خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 657

خطبات طاہر جلدم 657 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء تمام زود حسی بے حسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔چنانچہ پرسوں کی اطلاع کے مطابق پنو عاقل میں جہاں پہلے بھی ایک احمدی دوست کو شہید کیا گیا تھا وہیں ایک اور احمدی دوست کو جن کی عمر ساٹھ برس کی تھی ظالمانہ طور پر شہید کر دیا گیا۔ساتھی جو تھے انہوں نے ان قاتلوں کو پہچانا اور ان کی رپورٹ درج کرائی لیکن جو قاتل ہیں ان کو نہیں پکڑا گیا بلکہ ان کے ایک رشتہ دار کو قید کر لیا گیا تا کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ اندرونی جھگڑے کا معاملہ تھا۔تو اس قدر بے حیائی اور بے باکی کے ساتھ وہاں ظلم و ستم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ایسے موقع پر دو قسم کے سوالات اٹھتے ہیں۔جو تو مومن ہے اس کے دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیا بات ہے؟ کیوں ان لوگوں کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے؟ آخر خدا کی غیرت کب جوش دکھائے گی کب پکڑ کا دن آئے گا ؟ کب یہ ظلم وستم کا سلسلہ بند ہوگا ؟ وہ خدا کے وعدوں کو یاد کرتے ہیں جو تمام انبیاء سے اور ان کی جماعتوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ کرتا چلا آیا ہے اور اس تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں جس تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ بہر حال یہ لوگ بالآخر پکڑے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو اپنے سے تعلق رکھنے والوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا اور پھر وہ تعجب سے دیکھتے ہیں کہ دن تو بہت لمبے ہوتے چلے جارہے ہیں۔تکلیفیں حد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں اس دفعہ کیوں خدا کی تقدیر ظاہر نہیں ہوتی۔دوسری طرف دشمن یہ سوچنے لگتا ہے کہ یہ پکڑ وکڑ قصے سب فضول ہیں۔کچھ بھی نہیں ہوا کرتا ہم دندناتے پھر رہے ہیں ہم جس طرح چاہیں ان لوگوں سے حقوق غصب کر رہے ہیں اور یہ خدا کی باتیں کرتے ہیں آگے سے۔یہ کہتے ہیں ایک دن خدا تمہیں پکڑے گا۔ایک اللہ کی مدد ہماری تائید میں ظاہر ہوگی اور خدا کی نصرت آسمان سے آئے گی اور حالات کو بدل دے گی تو یہ عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں اور پھر دلیر ہوتے چلے جاتے ہیں ظلم کے بعد ظلم کرتے ہوئے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اچھا پھر اگر عذاب ہے تو لا کر دکھاؤ ؟ کہاں ہے تمہارا خدا؟ کہاں ہے اس کی غیرت تمہارے لئے ؟ عذاب ہے تو ہم پھر کہتے ہیں لا و عذاب وہ کہاں ہے ہم پر نازل کرو اس عذاب کو ہم بھی دیکھیں تمہارا خدا کیسا خدا ہے؟ قرآن کریم نے ان مضامین کو مختلف جگہوں پر محفوظ فرمایا ہے اور نہایت خوبصورت انداز میں ان مضامین کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔مومنوں کے دل کی کیفیات کا بھی خوب خوب