خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 656
خطبات طاہر جلدم 656 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء کے متعلق ، یہاں تک کہ خواتین کے متعلق بھی نہایت گندی زبان میں عوامی جلسوں میں کی جاتی ہیں شدید مغلظات بکی جاتی ہیں۔جماعت احمدیہ کے قتل و غارت پر اکسایا جاتا ہے اور نہایت ہی گندے الزام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں گویا کہ آپ نے دوسرے مسلمانوں اور بزرگوں اور انبیاء کے خلاف کوئی نہایت ہی غلط قسم کی زبان استعمال فرمائی ہو۔تو یہ سب کچھ جو بڑی دیر سے چل رہا ہے یہ اُسی طرح جاری ہے۔کوئی دن ایسے اخبار نہیں چھپتے جن میں جماعت احمدیہ کی دل آزاری کے سامان نہ ہوں اور بعض علاقوں میں (جیسا کہ سندھ کا میں نے ذکر کیا تھا ) اس اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں قتل و غارت بھی ہورہے ہیں اور قتل با قاعدہ منصوبے کے ماتحت پیشہ ور قاتلوں سے کروائے جارہے ہیں اور حکومت کو علم ہے کہ کون اس کی پشت پر ہے۔جب کسی احمدی کو شہید کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھی عزیز ہوں یا دوست ،بعض دفعہ قاتل کو دیکھ لیتے ہیں ، پہچانتے ہیں ، اس کا نام لکھوائے ہیں، لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی اور ان قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔یہاں تک کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ حکومت کے ذمہ دار افسروں نے نام لکھوانے والوں کو دھمکی دی کہ تم بڑے بے وقوف ہو تمہیں اپنی جان کی خیر نہیں۔تمہیں پتہ نہیں کہ تم کن کا نام لکھوار ہے ہو؟ ان علماء، اس علاقے کے اتنے بڑے بڑے لوگ اگر ان کا نام بیچ میں آتا ہے تو پھر تمہاری جان کو بھی خطرہ ہے۔چنانچہ ڈاکٹر عقیل کی شہادت کے اوپر یہی بات ہوئی۔ضلع کے معزز افسران نے جماعت سے شکوہ کیا کہ کیا تم بے وقوفی کر بیٹھے ہو؟ ان کے بیٹے کی جان کی امان نہیں چاہتے ، کیا نام لکھوا دیئے انہوں نے۔انہوں نے کہا جو دیکھا اور جو واقعات ہیں اس کے مطابق نام لکھوائے ہیں اور اس کے باوجود کہ ایف۔آئی۔آر میں درج ہے کہ فلاں اشخاص تھے یا یہ واقعات گزرے تھے ان سے اور ان کے ثبوت با قاعدہ جماعت کے پاس موجود تھے، کوئی کارروائی ان کے خلاف نہیں کی گئی۔چنانچہ ایک ایسا وہاں قاتلوں کا جتھصہ تیار ہو گیا ہے جن کی پشت پنا ہی وہاں کے ایک مولوی صاحب کر رہے ہیں، اس علاقے کے ، حکومت کو خوب اچھی طرح معلوم ہے وہ کون ہیں اور ایک کے بعد دوسرے احمدی عہد یداروں کو قتل کروا ر ہے ہیں اور کوئی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کارروائی نہیں ، کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔گویا احمدی کی جان و مال کی کوئی قیمت کوئی قدر اس ملک میں باقی نہیں رہی اور یہاں