خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 658
خطبات طاہر جلدم 658 خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۸۵ء تجزیہ کیا ہے اور کافرین تو ہمات میں مبتلا ہو جاتے ہیں ظلم کرنے والوں کو جو خدا تعالیٰ کی مہلت سے دلیری ملتی ہے ان حالات کا بھی پورا باریکی کے ساتھ تجزیہ فرمایا گیا ہے۔جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں بھی اس مضمون کے بعض پہلوؤں کا ذکر فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا اس لئے کہ وہ ظالم تھیں فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُو شِهَاوہ اپنی چھتوں کے بل پڑی ہیں یعنی ان کی چھتیں گری پڑی ہیں اور کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں وَبِئْرِ مُعَطَّلَةِ اور ایسے کنویں ہیں جو متروک ہو چکے ہیں۔ان میں اب کوئی باقی نہیں۔زندگی کے پانی کے بجائے وہاں سانپ بچھو بسیرا کئے ہوئے ہیں۔وقَصْرِ مَّشِید اور بڑے بڑے بلند قلعے ہیں جو ڈھیر بن چکے ہیں ملبے کا ان میں کوئی بھی نہیں رہتا۔اَفَلَمْ يَسِيرُ وا فِي الْأَرْضِ پھر کیوں ایسا نہیں ہوتا کہ وہ چلیں پھریں زمین میں اور ان اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھیں اور ان کے حالات پر غور کریں، فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا اور اس کے نتیجہ میں ان کو وہ دل نصیب ہو جائیں جن سے وہ عقل حاصل کر سکیں او أَذَانُ يَسْمَعُونَ بِهَا یا ایسے کان عطا ہو جائیں جن سے وہ سن سکیں ، فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ كم یقیناً در حقیقت آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں وہ تو دیکھتی ہیں وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔تو جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو ظلم و ستم میں دلیر ہوتے چلے جاتے ہیں اور بے باک ہوتے چلے جاتے ہیں ان کو توجہ دلائی کہ خدا کی عمومی تقدیر پر کیوں نظر نہیں کرتے اور اگر اپنے گردو پیش میں تمہیں کچھ نظر نہیں آتا تو آفاقی نظر سے دنیا کے حالات پر غور کرو، قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرو ، ان اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھو جو دنیا میں مختلف جگہ بکھری پڑی ہیں اور آج عبرت کا نشان بنی ہوئی ہیں۔بڑی بڑی عظیم تو میں ان میں آباد تھیں، بہت بڑی بڑی تہذیبوں کا وہ گہوارہ تھیں لیکن اب ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ وہ عبرت کا نشان ہوں ، کھنڈرات ہوں۔وہ کنویں جو کبھی زندگی کی سیرابی کے لئے پانی مہیا کرتے تھے اب موت کے ڈر سے متروک ہو چکے ہیں۔وہاں ہلاک کرنے والی چیزیں تو ہیں لیکن زندگی بخش کوئی چیز موجود نہیں۔معطل ایسے کنویں کو کہتے ہیں جس طرف نظر ہی نہیں پڑتی امید