خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 577

خطبات طاہر جلدم 577 خطبہ جمعہ ۱۲۸ جون ۱۹۸۵ء کلیۂ خدا سے وہ تعلق تو ڑ بیٹھے ہوتے ہیں۔نہ ان کو بچی خوا ہیں آرہی ہوتی ہیں ، نہ ان کو کشف کشوف ہوتے ہیں، نہ ان کو الہام ہوتا ہے اور نہ ان کو اس میں کوئی دلچسپی ہوتی ہے کہ خدا ان سے کلام کرے تو جب وحی نازل ہوتی ہے تو کہتے ہیں۔أُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرُ (القمر: ۲۶) کہ ہمارے جیسے لوگوں میں خدا کلام کر دے! بڑا ہی جھوٹا ہے پکا جھوٹا ہے۔خود کذاب ہوتے ہیں، خود گندے لوگ ہوتے ہیں ، خدا سے تعلق کالے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ان کی سمجھ میں آہی نہیں سکتا کہ ہماری سوسائٹی ہم جانتے ہی نہیں کیسی ہے ! کس حال میں بس رہی ہے؟ اور یہ آیا ایک شخص اسی میں سے اٹھ کر کہتا ہے مجھ سے خدا نے کلام شروع کر دیا ہے! سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْآشِر ( القمر : ۲۷) یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کون جھوٹا ہے اور کون شریر اور کون فاسق وفاجر ہے؟ اور آنے والا وقت بتا دے گا اور کھول دے گا اس بات کو۔پھر قرآن شریف فرماتا ہے کہ یہ جو انکار کرنے والے لوگ ہیں وحی کا یا نبوت کا یہ دراصل وہی لوگ ہیں کہ جب کس کے وقت میں ہوتے ہیں یعنی گزشتہ زمانے میں جب بھی انبیاء آئے اس زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوا کرتے تھے جو ضرور انکار کرتے تھے اور ضرور مخالفت کرتے تھے۔یہ وہی لوگ ہیں ، پہچان لو ان کو کیونکہ پہلے لوگوں نے ایسا ہی کیا تھا اور جب وہ آکر چلا گیا تو وہاں بھی پھر انہوں نے غلو اختیار کیا، پہلے جھوٹا کہا انکار کیا، پتھراؤ کیا اس کو سزائیں دینے کی کوشش کی اور جب وہ آکر چلا گیا تو کہنے لگے اب خدا کسی کو نہیں بھیجے گا۔اس زمانے میں اس سے چھٹی کر لی اور اس کے جانے کے بعد مانا اگلی نسلوں نے اور اس شرط کے ساتھ مانا کہ اس کو تو اب مان بیٹھے ہیں اب آئندہ کسی اور کو نہیں مانا تو انکار کی سرشت ہے ان کے اندر فرمایا: وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوْسُفَ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولاً (المومن : ۳۵) تم میں سے اس سے پہلے یوسف بھی تو آیا تھا ، بڑے کھلے کھلے نشان لے کر آیا تھا، جب تک وہ زندہ