خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 578 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 578

خطبات طاہر جلدم 578 خطبہ جمعہ ۱۲۸ جون ۱۹۸۵ء رہا تم شک میں ہی پڑے رہے، مسلسل اس کا انکار کیا اسے جھوٹا سمجھا۔حَتَّى إِذَا هَلَكَ ہاں جب وہ ایک تاریخ کا حصہ بن گیا جب وہ جاتا رہا تم سے قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُوْلًا تم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب خدا کسی کو نہیں بھیجے گا یعنی اس سے بمشکل جان چھرائی اور مانا بھی اس وقت جبکہ آ کے جاچکا تھا، کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور مانا اس شرط کے ساتھ کہ اچھا اس کو تو ہم مان گئے ہیں لیکن آئندہ کسی کو نہیں ماننا۔فرمایا جو یہ سرشت لے کر زندہ رہتے ہیں ان سے تو ایمان لانے کی توقع تو بالکل عبث بات ہے۔پھر فرماتا ہے: قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ أَمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَ مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَسِقُوْنَ (المائدہ: ۶۰) یہاں سے ایک اور مضمون شروع ہو جاتا ہے لیکن اس کے متعلق میں انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔اس کا ایک پہلو ایسا ہے جس کو اب میں اس وقت بیان کرتا ہوں فرمایا: قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ أَمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَ مَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَسِقُوْنَ لفظی ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اے اہل کتاب! کیا تم ہم سے یہ بات بری مناتے ہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف اتاری گئی اور ہم سے پہلے اتاری گئی باوجود اس کے کہ تم میں سے اکثر فاسق اور فاجر ہیں، فسق کرنے والے ہیں۔اس آیت میں تین حصے بیان ہوئے ہیں ایک ہے تَنْقِمُونَ مِنا تم ہم سے بہت ناراض ہو ، کیسے وہ ناراض ہوتے تھے کیا کیا وہ حرکتیں کرتے تھے ان کا ذکر انشاء اللہ آئندہ کیا جائے گا۔دوسرا پہلو یہ بیان فرمایا کہ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اللہ پر وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ہم اللہ پر ایمان لے آئیں ہیں اور جو ہم سے پہلے اتارا گیا تھا اس کو بھی مان گئے ہیں۔یہ بھی بڑا عجیب پہلو ہے وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ پر عموماً لوگ غور نہیں کرتے۔اس بات پر تو انسان کو سمجھ آجاتی ہے کیوں دشمن ناراض ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو تسلیم کر لیا۔اہل کتاب تھے پہلے نبیوں کو مانتے تھے جو پہلے اتارا گیا تھا اس کو ماننے پر تو ان کو کوئی غصہ نہیں آنا چاہئے لیکن آنحضرت ﷺ کو ماننے پر ان کو غصہ آنا