خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 568
خطبات طاہر جلد۴ 568 خطبه جمعه ۲۸ / جون ۱۹۸۵ء متعلق خدا کے اوپر بندشیں نہیں لگا سکتے اور یہ جو انکار ہے یہاں بشر کی ہتک نہیں بلکہ خدا کی ہتک ہے۔پھر فرمایا تَجْعَلُونَ، قَرَاطِيْسَ تُبْدُونَهَا وَ تُخْفُونَ كَثِيرًا کہ تمہارے انکار کی وجہ یہ ہے کہ تم ٹیڑھے ہو چکے ہو اور خدا کی طرف سے جو پہلا کلام تھا خدا کا اس کے ساتھ بھی تم ایسا ہی کام کر چکے ہو جو بھی کا سلوک ہے اور ٹیڑھے پن کا سلوک کر چکے ہو۔تم اس لائق نہیں ہو کہ خدا کے کلام سے استفادہ کرو ورنہ خدا تعالیٰ کا کلام تو کبھی بند نہیں ہوا کرتا۔فرمایا دیکھو موسیٰ پر بھی تو کلام نازل ہوا تھا یہ تو تم مانتے ہو لیکن اس کلام سے تم نے کیا کیا ؟ تَجْعَلُوْنَهُ قَرَاطِيْسَ تم نے اس کو کاغذ کاغذ پر چی پر چی کر دیا۔ایک نے تم میں سے ایک آیت اٹھائی اور اس کا ایک معنی نکالا کسی اور نے کوئی دوسری اور آیت اٹھائی اور اس کا کوئی اور معنی نکالا اور رفتہ رفتہ ایک کتاب تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی وہ بہتر (۷۲) فرقوں میں تبدیل ہوگئی اور ہر فرقے نے اس کتاب کی بعض آیات کو پکڑ لیا اور بعض کو چھوڑ دیا۔تم نے کتاب کے ساتھ تفریق کرنی شروع کر دی یہاں تک کہ اس کی وحدت ختم ہوگئی ، بظاہر وہ ایک کتاب رہی لیکن فی الحقیقت ہر فرقے نے اس میں سے بعض چیزوں کو اپنے لئے اخذ کر لیا اور بعض کو دوسروں کے لئے چھوڑ دیا، بعض آیات کا ایک مفہوم کسی ایک فرقے نے لے لیا اور دوسرا مفہوم دوسرے فرقے نے لے لیا۔تو ایک کتاب ہوتے ہوئے بھی قَرَاطِيس بن گئی۔فرمایا جب تمہارا یہ حال ہے تو تم دراصل نہ خدا کی قدر کرنے والے ہو، نہ خدا کے کلام کی قدر کرنے والے ہو، اگر تم اللہ کی قدر کرتے اور اس کی اہمیت تمہارے ذہنوں میں ہوتی اور اس کا ادب ہوتا تمہارے دلوں میں تو خدا کے کلام پر قدغن لگانے کا تم سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی گھر بیٹھے یہ فیصلہ کرتے کہ اب خدا کسی سے کلام نہیں کرے گا۔اگر خدا کی کوئی قدر ہوتی تو تم اس کے کلام کا یہ حال نہ کرتے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اس کے نتیجہ میں خود ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ اور تمہیں بھی تو خدا نے ایسا علم دیا تھا جو تم نہیں جانتے تھے۔نہ تم اس سے واقف تھے نہ تمہارے آباء واجداد واقف تھے ، کون تھا وہ علم دینے والا ؟ قل الله ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ پھر ان کو چھوڑ دو یہ بات کہہ کر کہ یہ تمہارا حال ہے پھر خدا جو چاہے ان سے سلوک کرے في خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ وہ اپنے ٹھٹھے ، مذاق اور تمسخر میں بے شک بھٹکتے اور کھیلتے رہیں۔