خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 567
خطبات طاہر جلدم 567 خطبه جمعه ۱۲۸ جون ۱۹۸۵ء کیوں وہ حق کا انکار کیا کرتا ہے وہ اس آیت کریمہ میں بیان فرمائی گئی: وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهَ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتَبَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهُ قَرَاطِيْسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا وَعُلِّمْتُمْ قَالَمْ تَعْلَمُوا اَنْتُمْ وَلَا ابا وكم قُلِ الله ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ (الانعام:۹۲) اور وہ لوگ جو وحی کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں خدا تعالیٰ کسی بشر پر کچھ نازل نہیں فرمائے گا یا نہیں نازل فرما یا کرتا یہاں سے بات چلتی ہے۔کہتے ہیں ہو ہی نہیں سکتا ، بالکل لغو بات ہے کہ خدا تعالیٰ آج کسی انسان کے ساتھ کلام کر رہا ہو۔ہر گز ایسی کوئی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس میں محض بندے کا انکار نہیں ہے بلکہ ان کے اس دعوے میں کہ خدا تعالیٰ کلام نہیں کرتا خدا تعالیٰ کی ناقدری اور ناقدرشناسی ہے۔وہ کیسے خدا کا منہ بند کر سکتے ہیں وہ کیسے خدا تعالیٰ کو باز رکھ سکتے ہیں کلام کرنے سے اگر وہ کلام کرنے کا فیصلہ فرمائے۔یہ ہوتے کون ہیں جو خدا کے اوپر بندشیں لگانے والے مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ ان جاہلوں کو اللہ کی قدر ہی معلوم نہیں ، وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں۔قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتَبَ الَّذِي جَاءَ بِهِم مُوسیٰ ان سے کہہ دو یا تو ان سے کہہ د ے کہ اگر یہ بات ہے تو موسیٰ پر جو کتاب آئی تھی اس کو کس نے اتارا تھا۔یہاں صرف حضرت موسی “ کو ایک مثال کے طور پر پیش فرمایا گیا اس لئے کہ یہاں اہل کتاب بطور اوّل مخاطب ہیں۔مراد یہ ہے کہ تم خود ایسی کتابوں کے ماننے والے ہو جو پہلے اتاری گئیں۔کیوں اتاری گئیں؟ کیا ان سے پہلے انبیاء نہیں آئے تھے۔کیوں وہاں تک بات پہنچ کر نہیں ٹھہر گئی ؟ جب تم تسلیم کرتے ہو کہ موسیٰ پر یا کسی ایک نبی پر خدا نے کلام نازل فرمایا تو اس سے پہلے بھی تو خدا کلام نازل فرمایا کرتا تھا۔اس وقت کے لوگوں کو کیوں یہ حق نہیں تھا کہ وہاں کھڑے ہو جاتے اور کہہ دیتے اب خدا نازل نہیں فرمائے گا پہلوں پر نازل فرما چکا ہے اور اگر پہلے لوگوں کو حق نہیں تھا موسیٰ کے انکار کا تو تمہیں کیا حق ہے محمد مصطفی امیہ کے انکار کا ؟ ایک جاری سلسلہ ہے کہ خدا ہمیشہ بندوں سے کلام کرتا آیا ہے۔اس لئے جب تم ایک کے کلام کو تسلیم کر لیتے ہو تو دوسرے کے کلام کے