خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 569
خطبات طاہر جلدم 569 خطبہ جمعہ ۱۲۸ جون ۱۹۸۵ء یہ جواہل کتاب کو مخاطب کر کے یہ فرما یا تبدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا اس میں ایک اور کجی کا پہلو بھی بیان فرمایا دیا گیا کہ وہ بعض چیزوں کو تو ظاہر کرتے ہیں اور بعض کو چھپاتے ہیں۔یعنی جانتے ہوئے جن چیزوں پر ایمان لاتے ہیں ان میں سے بھی بعض کو ظاہر کرتے ہیں اور بعض کو چھپاتے ہیں ، یہ پہلی کبھی کے علاوہ ایک اور بات ہے جو بیان فرمائی گئی ہے ایک تو یہ ہے کہ بعض نے بعض آیات کو پکڑا مثلاً نور والی آیت کو پکڑ لیا اور نورانی ہو گئے اور اس کے نتیجہ میں ایک ایسا فرقہ بنالیا جس کا یہ عقیدہ تھا کہ آنحضرت علی نور تھے بشر نہیں تھے اور ایک دوسرے فرقے نے بشر والی آیت کو پکڑ لیا اور یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ بشر تھے، نور نہیں تھے۔اس کو تو کہتے ہیں قراطیس یعنی قرطاس کی بجائے اسے کاغذ کاغذ ، پرچی پر چی کر دیا اسی طرح بعض آیات کو ایک عقیدہ والے پکڑ کر بیٹھ گئے بعض آیات کو دوسرے عقیدہ والے پکڑ کر بیٹھ گئے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِیر اتم اپنے مطلب کی باتیں ظاہر کرتے ہو اور اپنے مطلب کے خلاف باتوں کو چھپا لیتے ہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے پاس بہت تھوڑا رہ گیا ہے یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے جسے سمجھنا چاہئے۔جب مذاہب میں تفریق ہو جاتی ہے بٹ جاتے ہیں فرقوں تو یہ نہیں ہوا کرتا کہ ہر فرقے کے پاس اکثر موجود رہتا ہے اور تھوڑا ہے جسے وہ چھوڑتے ہیں۔جو ان کے پاس ہوتا ہے اسے تو وہ ظاہر کرتے ہیں جو نہیں ہوتا اس کو چھپاتے ہیں تو فرمایا تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا کچھ اس میں سے کو تم ظاہر بھی کرتے ہو لیکن اکثر حصہ کو چھپا جاتے ہو جس کا مطلب ہے حق کے وہ تمام پہلو جو تمہیں پسند نہیں ہیں ان کو تم چھپاتے ہو اور وہ پہلوا کثر ہیں یعنی حق میں سے تھوڑا تمہیں پسند آتا ہے اور باقی اکثر سے تم محروم بیٹھے ہوئے ہو ورنہ اس کو چھپاؤ نہیں۔یہ حال آج بھی ہم اسی طرح دیکھ رہے ہیں۔ہر فرقے کے پاس قرآن کی سچائیوں میں سے تھوڑی باقی رہ گئی ہے باقی اور اکثر ان کے عقائد تو ہمات اور رسومات میں بدل چکے ہیں۔ان کے تصورات کے اکثر پہلو بدل چکے ہیں۔کسی ایک فرقہ کو آپ لے لیجئے اس سے خدا کا تصور معلوم کیجئے ، رسول کا تصور معلوم کیجئے ، انبیاء کا تصور معلوم کیجئے ، کتب الہی کا تصور معلوم کیجئے غرضیکہ کے ایمانیات کے تمام پہلوؤں پر ان سے گفتگو کریں ہر پہلو میں آپ بگاڑ دیکھیں گے۔مثلاً ملا سکتہ اللہ کے وجود ہی کو مسخ کر دیا گیا ہے یعنی ایسا تصور پیش کرتے ہیں جسے دنیا کا کوئی انسان جو فطرت سلیمہ اور