خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 487

خطبات طاہر جلدم 487 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء ایک نشان اور قوم کو انتباہ ( خطبه جمعه فرموده ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت کیں : قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُنْ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ۔وَ يَقُولُونَ مَتى هَذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُم صدِقِيْنَ قُلْ عَلَى أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِى تَسْتَعْجِلُوْنَ وَ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ (النمل: ۷۴۷۰) اور پھر فرمایا: ایک لمبا عرصہ جو کئی مہینوں پر پھیلا ہوا تھا حکومت پاکستان کے شائع کردہ مزعومہ قرطاس ابیض کے جوابات دینے پر صرف ہوا اور الا ماشاء اللہ تقریباً تمام کے تمام خطبات مزعومہ قرطاس ابیض کے جواب ہی کے لئے وقف رہے۔چند دن ہوئے پاکستان سے جماعت احمد یہ ڈسکہ کے امیر صاحب ( ملک حمید اللہ خان صاحب) نے اپنے خط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کی کاپی میں مندرج ایک رؤیا کا ذکر کیا۔یہ رویا ۰ استمبر ۱۹۰۳ء کی ہے اور تذکرہ (ایڈیشن سوم مطبوعہ ۱۹۶۹اء الشرکتۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ) کے صفحہ ۴۸۵ پر درج ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ قرطاس ابیض کا جو جواب دیا گیا ہے یہ