خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 488

خطبات طاہر جلدم 488 خطبه جمعه ۳۱ رمئی ۱۹۸۵ء رویا اسی سے تعلق رکھتی ہے۔چنانچہ جب میں نے اس رویا کے اصل الفاظ کا مطالعہ کیا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ واقعہ یہ رویا حیرت انگیز طور پر اسی واقعہ پر چسپاں ہوتی ہے۔چنانچہ اس سارے عرصہ میں مجھے ان جوابات پر اتنا اطمینان کبھی نہیں ہوا تھا اور اتنی غیر معمولی خوشی نہیں پہنچی تھی جتنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس رؤیا کے مطالعہ سے پہنچی اور جو اطمینان نصیب ہوا اس کا الفاظ میں بیان ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب شان ہے کہ آج سے بیاسی تر اسی سال پہلے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو بتا دیا تھا کہ اس طرح ایک واقعہ ہونے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ اس کا ایک شافی اور کافی جواب دیا جائے گا۔چنانچہ اس رویا کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خواب میں میں نے دیکھا میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے کسی مخالف کی۔میں اس کو پانی میں دھورہا ہوں اور ایک شخص پانی ڈالتا ہے۔جب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ ساری کتاب دھوئی گئی ہے اور سفید کاغذ نکل آیا ہے صرف ٹائٹل پیج پر ایک نام یا اس کے مشابہ رہ گیا ہے۔“ 66 تذکرہ۔ایڈیشن چہارم ۲۰۰۴ صفحه ۴۰۴) یہ الفاظ حیرت انگیز طور پر اس سارے واقعہ پر صادق آتے ہیں جو قرطاس ابیض کے نام سے عمل میں آیا ہے۔سب سے پہلے تو دیکھنے والی یہ بات ہے کہ عام کتا بیں جو مخالفین سلسلہ لکھتے رہے ہیں شروع سے لکھ رہے ہیں اور لکھتے چلے جائیں گے ، یہ ذکر ان میں سے کسی ایک کے متعلق معلوم نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو ایک لمبا مضمون ہے جو تاریخ کے صفحات پر ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور کسی کتاب کو خاص کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی لیکن پاکستان میں حکومت وقت کی طرف سے جماعت کی مخالفت میں ایک کتاب شائع کی جائے تو اس کتاب کو ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے اور عام مخالفانہ کتابوں سے ممتاز ہو جاتی ہے۔اس لئے لازما یہاں کسی ایسی ہی کتاب کا ذکر ہے جو ایک غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے اور اس ساری تاریخ میں جو تقریباً ایک سوسال پر پھیلی ہوئی ہے جماعت احمدیہ کی مخالفت میں یہ پہلا واقعہ ہوا ہے کہ ایک ملک کی حکومت نے اپنی جانب سے ایک مخالفانہ کتاب شائع