خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 485
خطبات طاہر جلدم 485 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۸۵ء کارندوں نے ایسا کروایا ہو کیونکہ جس قسم کا ضابطہ اخلاق اس آمرانہ حکومت کا ہے وہ آپ جانتے ہیں سب دنیا پر کھلا ہوا ہے۔کئی قسم کے امکانات ہیں۔ایک تو جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی شریر نے وہاں بیٹھ کر سازش کی ہو اور کئی دفعہ پہلے بھی ہوا تھا ۷۴ء میں بھی۔مثلاً اٹک میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک مولوی صاحب کا بیٹا احمدیوں کے اوپر بم پھینکنے کی تیاری کر رہا تھا اور وہ بنا رہا تھا وہ ہم سے خود اڑ گیا اور اس کے جرم میں معصوم احمدی جو باہر بیٹھے ہوئے تھے پکڑ لئے گئے۔ڈی سی ان کو کہتا تھا مجھے پتا ہے آپ کا قصور کوئی نہیں ، مجھے پتا تھا کہ یہ خود ظالم ہے لیکن میں مجبور ہوں حکومت وقت کی طرف سے اور عوامی دباؤ کی وجہ سے میں مجبور ہوں۔تو یہ بھی ہو جایا کرتا ہے بسا اوقات۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ چونکہ بجٹ کا وقت ہے اور کئی قسم کے خطرات تھے حکومت کو کہ سیاسی بے چینی بڑھ جائے گی اور جو Heavy Taxation کی گئی ہے نئی اس کے نتیجہ میں عوام میں بے چینی پھیل جائے گی تو کیوں نہ حکومت کی بجائے اس بے چینی کا رخ احمدیت کی طرف کر دیا جائے۔یہ بھی بعید نہیں ہے۔یہ بھی بعید نہیں ہے کہ کسی بریلوی فرقہ کے آدمی نے یہ سازش کی ہواور دیو بندیوں سے اپنے بدلے اتارے ہوں اور اس یقین میں اتارے ہوں کہ اس کی سزا تو بہر حال احمد یوں کو ملنی ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔یہ بھی اس ملک سے بعید نہیں۔جس ملک میں ضابطہ حیات کوئی نہ رہا ہو وہاں کوئی چیز بھی بعید نہیں ہوا کرتی۔کئی قسم کے احتمالات اور بھی ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض سیاسی پارٹیوں نے یہ دیکھ کر کہ دوسرے ذرائع سے عوام نہیں اٹھ رہے احمدیوں کے خون سے اگر ہولی کھیلی جائے تو پھر یہ پاکستانیوں کے لئے سب سے زیادہ آسان ہے اور بڑی آسانی کے ساتھ اس پر راضی ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ طریقہ اختیار کیا جائے اور دیسی سازش بھی ہو سکتی ہے جیسے بھٹو صاحب کے زمانے میں جو ربوہ سازش کے نام سے مشہور کیس ہے جس کی کارروائی کی تحقیق کی ابھی تک شائع ہی نہیں کی گئی۔بہر حال کئی قسم کے احتمالات ہیں۔لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے جو رپورٹیں مل رہی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام جماعت مردو زن، بوڑھے بچے ، سب حوصلوں میں ہیں۔قطعاً خوفزدہ نہیں ہیں۔نہ اس حکومت سے نہ ان کے ملانوں سے ، نہ ان ظالموں سے جولوگوں کی باتیں سن کر تحقیق کے بغیر ناحق خون پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔وہ بڑے حوصلوں میں ہیں اور اللہ پر توکل