خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 484
خطبات طاہر جلد۴ 484 خطبه جمعه ۲۴ مئی ۱۹۸۵ء جواذیت کے واقعات سامنے آئے ہیں ان میں سے چند جن کی ڈاکٹری رپورٹ لی گئی ان کے متعلق رپورٹ یہ ملی ہے کہ ان کو کلمہ پڑھنے کے جرم میں ڈاکٹر نے تعجب سے لکھا ہے کہ اتنی خوفناک اذیت دی گئی ہے کہ عام عادی مجرموں کو بھی پولیس اتنی اذیت نہیں دیا کرتی جتنی تکلیفیں ان نو جوانوں کو پہنچائی گئیں اور ان کا صبر ورضا کا دامن تار تار نہیں کر سکے، ان کی کلمہ کی محبت ان کے دلوں سے نہیں نوچ سکے۔جو ملنے والے جاتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ہم تو ان کو صبر کی تلقین کرنے جاتے ہیں۔وہ ہمیں دیکھ کر ہمیں صبر کی تلقین کرتے ہیں۔کہتے ہیں فکر نہ کرو، ہم تو موجیں کر رہے ہیں۔جیل کی درود یوار پر کلمہ لکھا ہوا ہے۔دن رات وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کا ورد کرتے ہیں اور آنحضرت عے پر درود بھیجتے ہیں۔پھر وہاں پہ جیلوں کی تو فضا ئیں بدل گئی ہیں اور جب وہ ہتھکڑی پہنتے ہیں تو نعرہ ہائے تکبیر کے ساتھ ہتھکڑی پہنتے ہیں تھکڑیوں کو چوم کر پہنتے ہیں۔تو جہاں تک ان کی کیفیت کا تعلق ہے وہ تو یہ ہے لیکن جو باہر ہیں ان کو اپنی آزادی دکھ دیتی ہے، ان کو اپنا آرام کاٹنے کو دوڑتا ہے ان کے دکھ، جو دکھ والے اپنے دکھوں کو دکھ نہیں سمجھ رہے ، باہر والے محسوس کر رہے ہیں۔ان کی تکلیفوں میں ساری دنیا کا احمدی اس وقت مبتلا ہے۔عجیب کیفیت ہے یہ کہ جو دکھوں میں سے گزر رہے ہیں وہ اس کو راحت سمجھ رہے ہیں۔جو راحت اور اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں وہ راحت ان کو دکھ محسوس ہو رہا ہے اور یہ ظالم سمجھ رہے ہیں کہ یہ اسلام کی خدمت ہو رہی ہے۔صرف اسی پر بس نہیں اور بھی نہایت خوفناک سازشیں ہیں جو مسلسل چل رہی ہیں۔ابھی کل ہی کا واقعہ ہے کہ سکھر میں ایک دیوبندی مسجد میں اور خاص طور پر اس وقت حکومت کا آلہ کار دیو بندی فرقہ ہی ہے، ایک بم چلایا گیا۔واقعات کی تفصیل تو حکومت نے ظاہر نہیں کی یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں کوئی احمدیوں کو مارنے کے لئے بم بنایا جا رہا ہو پھٹ گیا ہو مگر بہر حال اس مسجد میں ایک بم پھٹا جس سے دو آدمی ہلاک ہو گئے اور سارے شہر میں اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں کہ احمدیوں نے اپنے دو شہداء کا بدلہ اتارنے کے لئے یہ کیا ہے اور تمام احمدیوں کے جان و مال کو خطرہ ہے۔بار بار نہایت خطر ناک قسم کے جلوس نکالے گئے ، لوگوں کو انگیخت کیا گیا کہ ان کے جان مال لوٹ لو۔اور الٹا حکومت کی طرف سے تیرہ احمدیوں کو اس جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے کہ تم مشکوک ہو۔جرم تو نہیں کہہ سکتے لیکن اس شک میں گرفتار کر لیا گیا ہے کہ تم نے ہی یہ کروایا ہے حالانکہ ہرگز بعید نہیں کہ خودحکومت کے