خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 483 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 483

خطبات طاہر جلدم 483 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء خصوصیت کے ساتھ پاکستان میں جو دردناک حالات گزررہے ہیں وہ آپ کی روحانیت کو انگیخت کرنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔پہلے اگر یہ مشکل تھا بھی تو اب مشکل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ روحانیت کا تعلق قلبی تحریکات سے ہوتا ہے جذبات سے ہوتا ہے، خشک ملائیت اور روحانیت کا کوئی جوڑ نہیں۔ایک رسمی دین کا اور روحانیت کا کوئی جوڑ نہیں اور روحانیت دکھوں سے گزر کے حاصل ہوتی ہے۔پس ایک یہ بھی عسر کی وجہ ہے عمر بذات خود مراد نہیں، مقصود نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جب دکھوں میں سے آپ گزرتے ہیں تو آپ کی روحانیت ترقی کرتی ہے اور آپ ایک میسر کے مضمون میں ، آسانی کے مضمون میں داخل ہو جاتے ہیں، اللہ کی پناہ میں آ جاتے ہیں اس کے پیار کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔پس اس پہلو سے اگر ویسے دل میں کوئی سختی ہو یا خشکی ہو تو اپنے پاکستانی بھائیوں کا خیال کریں بڑی مصیبتوں ا اور تکلیفوں میں مبتلا ہیں۔ابھی حال ہی میں حکومت پاکستان اور بعض ملانوں کو دوبارہ جنون اٹھا ہے جیسا کہ میں نے پہلے ایک خطبہ میں ذکر کیا تھا اب سندھ کا رخ اختیار کیا ہے اور سندھ میں جو کلمہ مثانے کی تحریک چلائی جارہی ہے اس میں پولیس کے تشدد کا بہت بڑا دخل ہو گیا ہے۔ایک ڈسٹرکٹ تھر پارکر کا ڈپٹی کمشنر ایک ملاں ہے جو جب نواب شاہ میں تھا وہاں بھی اس نے فساد مچایا۔جب یہاں آیا تو اس نے یہ سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ہے کہ میں کلمہ چھین کے دکھاتا ہوں ، جب اور کوئی شیطان نہیں چھین سکا میں چھین کے دکھاتا ہوں۔چنانچہ ایک بڑی مہم پولیس کے ساتھ مل کر چلائی گئی کہ احمد یوں کو مجبور کر دیا جائے کہ وہ کلمہ سے لاتعلقی کا اظہار کر دیں لیکن احمد یوں سے کون کلمہ چھین سکتا ہے؟ ان کا دل نوچ سکتے ہیں لیکن ان سے کلمہ اور اس کا پیار نہیں چھین سکتے۔چنانچہ چند قیدیں کیں تو بیسیوں اور آگئے۔بیسیوں قیدیں کیں تو سینکڑوں اور آگئے اور ہزاروں اب تیار بیٹھے ہوئے ہیں، وہ انتظار کر رہے ہیں کہ ہماری باری آئے۔مجھے دعاؤں کے خط لکھ رہے ہیں ،ان کا یہ حال ہے۔شدید گرمی میں شدید تکلیف میں نہایت ہی گندے اور خوفناک حالات میں جو پاکستان کے قید خانوں کے ہیں ان حالات میں بھی ان مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پھر بھی وہ نہ صرف شوق رکھتے ہیں بلکہ خط لکھتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کریں ہماری باری جلدی آئے اور جانتے ہیں کہ ان کی پولیس کی طرف سے نہایت دردناک اذیتیں بھی دی جا رہی ہیں۔