خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 427
خطبات طاہر جلدم 427 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء وہ پیشکش قبول نہ ہوئی اور بظاہر یہی سمجھا گیا کہ اب یہ ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔پھر اس کی قیمت چالیس ہزار مقررہ ہوئی۔اس وقت بھی ہم لینے پر آمادہ تھے اور چالیس ہزار پونڈ جو ہم نے پیشکش کی تو وہ نا منظور ہوگئی اور اس طرح پھر یہ ہاتھ سے نکل گئی۔مختلف وقتوں پر جب غالباً ساٹھ ہزار تھی اس وقت ہماری طرف سے پچپن ہزار پیشکش ہوتی تھی۔مختلف وقتوں میں یہ عمارت ہمارے قریب بھی آتی رہی اور دور بھی بہتی رہی۔چنانچہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب دوست کچھ گھبرا گئے اور انہوں نے کہا کہ اب کیا کیا جائے۔تو اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اس وقت میرے منہ سے یہی بات نکلی کہ آپ فکر نہ کریں جتنی اس کی ابتدائی قیمت تھی ہمیں اس سے زیادہ نہیں دینی پڑے گی آپ انتظار کریں۔چنانچہ یہ عمارت گھوم گھام کر بالآخر جماعت احمدیہ کے پاس پہنچ گئی اور اب ہمیں اس کی قیمت پنتیس ہزار پونڈ (35,000) دینی پڑی ہے۔اگر چہ اس کی ظاہری حالت بہت خراب ہے۔آپ یہاں جس ہال میں بیٹھے ہیں کافی وسیع کمرہ ہے میرا خیال ہے کہ اگر بھرا ہوا ہو تو تقریباً دو سو آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں اسی طرح کا ایک اور ہال اوپر ہے۔جس ہال میں آپ بیٹھے ہوئے ہیں اس کی حالت تو آپ کو خراب نہیں نظر آ رہی۔امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت نے اسے بہت محنت کر کے اس قابل بنایا ہے کہ یہ اچھا دکھائی دے رہا ہے ورنہ جس جگہ ابھی جماعت احمدیہ کے رضا کا کام نہیں کر سکے آپ اس جگہ کو جا کر دیکھیں تو یہ عمارت بہت ہی خستہ حالت میں ہے یا خستہ حالت میں تھی لیکن اب انشاء اللہ تعالیٰ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے رنگ بدلنے لگیں گے۔اسی قسم کا ایک ہال او پر بھی ہے پھر اس سے اوپر بھی ایک منزل ہے وہاں بھی بہت سے کمرے ہیں۔خرچ تو کرنا پڑے گا اور کچھ مزید محنت کرنی پڑے گی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ عمارت جماعت کی موجودہ فوری ضرورتوں کو بھی پوری ہو سکے گی اور آئندہ چند سال تک بھی ہماری ضرورتیں پوری کرتی رہے گی۔جو انجینئر ز میں نے دیکھنے کے لئے بھجوائے تھے وہ یہ کہتے تھے کہ ہم نے اسے خوب اچھی طرح دیکھا ہے اور ہرفنی نقطہ نگاہ سے اس کی پڑتال کی ہے۔اس کا صرف ٹھوس پتھر کا ملبہ وہی موجودہ قیمت جو ہمیں دینی پڑ رہی ہے اس سے زیادہ قیمت کا ملبہ ہے اور یہ موقع اتنا اچھا ہے کہ اگر یہاں چٹیل زمین بھی پینتیس ہزار پونڈ میں مل جاتی تو وہ بھی ایک اچھا سودا تھا۔اس لئے اس عمارت کو تو آنکھیں بند کر کے لے لینا چاہئے۔