خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 428
خطبات طاہر جلدم 428 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء جہاں تک جماعت کی ضروریات کا تعلق ہے اگر چہ موجودہ حالت میں جماعت کی تعداد تھوڑی ہے اور بظاہر اتنی بڑی عمارت کی ضرورت نہیں مگر ضرورتیں پھیلتی جاتی ہیں اس لئے مشورہ یہی تھا کہ بہر حال اس موقع کو ہاتھ سے نہیں کھونا چاہئے۔چنانچہ ان امور کے پیش نظر فیصلہ تو بہت دیر سے تھا لیکن ہر منزل پر آ کر کچھ روکیں بھی پیدا ہوتی رہیں لیکن خدا تعالیٰ نے بالآخر ہر روک اٹھادی اور آج یہ مبارک جمعہ ہے جس میں ہم اس عمارت کا افتتاح کر رہے ہیں۔جب میں افتتاح کہتا ہوں تو میری مراد وہ افتتاح نہیں جس کی دنیا میں رسم موجود ہے۔اس افتتاح کے تو کوئی بھی معنی نہیں ہوتے اس افتتاح کی تو کوئی بھی حقیقت نہیں ہے کیونکہ اس میں تو چند آدمی اکٹھے ہو کر رنگ و روپ کا مظاہرہ کر دیتے ہیں، کچھ دکھاوے ہو جاتے ہیں، کچھ تصاویر ہو جاتی ہیں، فیتے کاٹے جاتے ہیں لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے حقیقت بالکل ویسی رہتی ہے اس میں کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ایک آیا یا دوسرا آیا الف نے افتتاح کروایا یاب نے افتتاح کروایا یہ سب بے معنی اور حقیر چیزیں ہیں لیکن جب میں مذہبی نقطہ نگاہ سے افتتاح کی بات کرتا ہوں تو میری مراداس قسم کا افتتاح ہے جس قسم کا سورۃ فاتحہ نے قرآن کا افتتاح کیا۔ایک چھوٹی سی سورۃ ہے جو آغاز میں رکھ دی گئی ہے اور اس کا نام سورۃ فاتحہ رکھا گیا ہے اور اس کے اندر وہ تمام معانی ہیں وہ اور تمام پیج موجود ہیں جنہوں نے نشو و نما پا کر قرآن کی شکل اختیار کرنی ہے اور اس سورۃ نے ان تمام مضامین پر حاوی ہو جانا ہے جو قرآن کی صورت میں قاری کو بعد میں نظر آنے ہیں۔اس سورۃ میں ہر بلند ارادے کا افتتاح ہے۔ہر عظیم حکمت اور علم کے سمندر کا افتتاح ہے۔اس عظیم عالمی جد و جہد کا افتتاح ہے جس کا ذکر تفصیل سے قرآن کریم میں ملتا ہے اور ان تمام مطالب کا افتتاح ہے جو اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ خود قرآن کریم کے اپنے دعوی کے مطابق قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أن تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكيف : ١١٠) که محمد مصطفی ﷺ پر جو کلمات نازل ہو رہے ہیں ان میں ایسے بے انتہا مطالب ہیں کہ اے محمد ! اب تو خدا کی طرف سے یہ اعلان کرنے کا مختار ہے۔قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا