خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 426 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 426

خطبات طاہر جلدم 426 خطبه جمعه ۰ ارمئی ۱۹۸۵ء گھڑیاں بھی آتی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی طور پر دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔حدیث میں جو یہ خوشخبری دی گئی ہے اس کی بنیاد بھی سورہ جمعہ میں موجود ہے: فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ یہاں اللہ کے جس فضل کا ذکر ہے اس کی تشریح آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے۔اگر چہ بظاہر عام دنیا کے کاروبار اور دنیا کی منفعتیں مراد لی جاتی ہیں اور عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ فضل سے مراد تجارتوں کے منافع ہیں۔لیکن ہرگز ایسا نہیں وہ بھی اس آیت کا ایک منطوق ہے مگر بہت معمولی۔اس آیت کا اصل منطوق وہی ہے جس کا ذکر آنحضرت ﷺ کی تفسیر میں ملتا ہے کہ جمعہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں کا نزول ہوتا ہے۔دراصل جو فضل مراد ہیں وہی فضل اور اس کے ساتھ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ جوڑا گیا ہے کہ پھر کثرت کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرو، اس کا ذکر کرو تا کہ تم غیر معمولی طور پر فلاح پاؤ۔بہر حال جمعہ کا دن کسی پہلو سے بھی دیکھیں بہت ہی بابرکت دن ہے اور مومن کی زندگی میں ہر ہفتہ ایک نئی تازگی کا پیغام لے کر آتا ہے۔جماعت احمد یہ سکاٹ لینڈ کے لئے یہ جمعہ خصوصیات کے ساتھ بہت مبارک ہے کیونکہ آج ہم جس عمارت کا افتتاح کر رہے ہیں جو ہم نے خالصہ اللہ اللہ کی رضا جوئی کی خاطر بہت مدت کے انتظار کے بعد حاصل کی ہے۔جماعت احمد یہ سکاٹ لینڈ میں بڑی دیر سے یہ کی محسوس ہوتی رہی کہ کوئی ایسا مرکز نہیں جہاں بیٹھ کر اپنی اجتماعی زندگی کو ترتیب دے سکیں اور اس علاقہ کو ایسی مرکزیت عطا ہو جائے جہاں جماعت اکٹھی ہو اور پھر مل کر خدا کی رضا کی خاطر ، اس کے دین کی ترقی کے لئے منصوبے بنائیں اور اس مرکز کے گرد ہماری اجتماعی زندگی گھومنے لگے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے بڑی دیر سے کوششیں کی جارہی تھیں۔مختلف جگہیں تلاش کی جاتی رہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ایسا مقدر تھا کہ کئی جگہیں جو ہاتھ میں آتی ہوئی نظر آتی تھیں پھر ہاتھ سے نکل جاتی تھیں۔خود اس عمارت کا بھی یہی حال رہا۔شروع میں جب اس کی قیمت اسی ہزار پونڈ مقر تھی اس وقت بھی ہم اس کو لینے پر آمادہ تھے لیکن کچھ ایسی وجوہات در پیش ہوئیں کہ یہ پھر ہاتھ سے نکل گئی۔پھر اس کی قیمت ساٹھ ہزار پونڈ مقرر ہوئی اس وقت بھی ہم اس کو لینے پر آمادہ تھے بلکہ پیشکش بھی کر دی تھی لیکن پھر بھی ہماری