خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 335
خطبات طاہر جلدم 335 خطبه جمعه ۱۲ ر اپریل ۱۹۸۵ء سے سجائی گئی ہو یا گلوں میں ہار کی صورت میں لٹکی ہو۔الغرض وہ ساری دنیا میں ایک بھی صلیب نہیں رہنے دیں گے اور پھر اس کام سے فارغ ہونے کے بعد اگر مسیح نے شادی نہیں کی تو پھر شادی کریں گے اور دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔اس ظاہری ترجمہ پر تو انہیں ذرا ہنسی نہیں آئی بلکہ کہتے ہیں کہ دیکھو یہ کتنی معقول بات ہے۔اب سنئے احمدیوں کی تاویل جس کے بارے میں علماء کہتے ہیں کہ پتہ نہیں ان کی عقلوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہر جگہ تاویلیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ مسیح اصلی نہ صلیب اصلی ، نہ سور اصلی نہ دمشق اصلی اور نہ مینار اصلی کتنی مضحکہ خیز تاویل ہے کہ آسمان سے نازل ہونے کی بجائے خدا کا ایک بندہ عام انسانوں کی طرح پیدا ہو گا لوگ اس کا انکار کریں گے، اسے گالیاں دیں گے، دجال کہیں گے اور اس کے ماننے والوں کو قتل کریں گے۔ان کے بچوں کو ذبح کریں گے، ان کے گھر لوٹیں گے اور جو مظالم بھی انسان سوچ سکتا ہے وہ ان کے ساتھ روا رکھیں گے اور جس طرح پہلے مسیحی اور اس کے ماننے والوں کے ساتھ مظالم ہوئے تھے ان کے ساتھ بھی کئے جائیں گے۔اس تاویل پر مخالفین کہتے ہیں کہ دیکھو بنسی آئی کہ نہیں کتنی مضحکہ خیز بات ہے۔پھر وہ آہستہ آہستہ حکمت ،محبت اور پیار کے ساتھ دنیا میں دین حق کو پھیلائے گا۔صلیب کے خلاف دلائل دے گا اور اتنے عظیم دلائل دے گا کہ صلیب کو توڑ دے گا۔پھر وہ تقویٰ کی ایسی باتیں کرے گا کہ اس سے گندگیاں صاف ہوں گی اور سو رصفت لوگ انسان بننا شروع ہو جائیں گے اور وہ تہذیب جسے سور کی تہذیب کہا جاتا ہے اس کے خلاف وہ جہاد شروع کر دے گا اور اس طرح سے گویا وہ سو کر مارنے لگ جائے گا۔پھر وہ ان قوموں کے خلاف نکلے گا جنہوں نے دنیا میں دجل پھیلایا ہوا ہے جن کی دائیں آنکھ اندھی ہے اور وہ روحانیت سے بالکل عاری ہیں اور بائیں آنکھ (جو دنیا کی آنکھ ہے ) بڑی روشن ہے یعنی وہ لوگ دنیا میں عظیم الشان ترقی کر چکے ہیں وہ ان کے مذہب کے خلاف جہاد کرے گا اور اسلام کے غلبہ کا سامان کرے گا، ان کے ملکوں تک پہنچے گا اور وہاں سفید پرندے پکڑے گا اس کے غلام دنیا میں ہر جگہ پہنچیں گے اور عیسائیت سے ٹکر لیں گے۔اس تاویل پر وہ علماء کہتے ہیں کہ یہ کتنی مضحکہ خیز تاویل ہے بیوقوفی کی حد ہی ہوگئی ہے۔پس اگر تو وہی عقل ہے جو تمہاری ہے اور وہی بیوقوفی ہے جو ہماری ہے تو خدا کی قسم ہمیں لاکھ مرتبہ تمہاری عقل سے اپنی بیوقوفی زیادہ پیاری ہے کیونکہ اسلام اور بانی اسلام کی اس میں شان ہے