خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 336

خطبات طاہر جلدم 336 خطبه جمعه ۱۲ برابریل ۱۹۸۵ء اس میں نہیں ہے۔تم نے تو اپنی جہالتیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب کرنی شروع کر دی ہیں اور وہ جو روشنی کے مینار پر نازل ہوا اور جس نے آکر تمہیں روشنیاں عطا کیں اور تمہاری عقلوں کو روشنی دینے کی کوشش کی مگر تم نے اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے سارے دروازے بند کر لئے اور رات کی تاریکی میں بیٹھے ہوئے اس پر ہنس رہے ہو اور کہتے ہو کہ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ سورج نکل آیا۔اس پر تو سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا آم عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا (محمد: ۲۵) معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں۔ایک اور اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان دانی پر ہے کہ آپ کو تو اردو ہی اچھی طرح لکھنی نہیں آتی اور چونکہ مرزا صاحب کو لکھنا نہیں آتا اس لئے اسلام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس اعتراض کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”مرزا صاحب کی تحریروں کو پڑھنا خشک اور غیر دلچسپ مشغلہ ہوتا ہے کیونکہ ان کی تحریروں میں نہ تو علمی رنگ ہوتا ہے نہ ادبی چاشنی۔مسائل سے نمٹنے کا ان کا انداز بڑا ہی پھسپھسا تھا اور ان کی تحریر تیسرے درجے کی زمانہ وسطی کی تحریروں کی طرح تھی وہ اپنے مخالفین کو دل کھول کر کو ستے اور کبھی کبھی گالیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ان کی بہت سی تحریر میں نام نہاد پیشگوئیوں سے بھری پڑی ہیں جو ان کے مخالفین کی موت کے بارے میں ہوتی ہیں“۔( قادیانیت۔اسلام کے لئے سنگین خطرہ صفحہ ۱۳) ایک یہ خطرہ ہے عالم اسلام کو کہ جس نے دعویٰ کیا ہے اسے اردو اچھا لکھنا نہیں آتا اس کی زبان پھپھی ہے، اس میں کوئی مزاح نہیں، کوئی چنکلے نہیں اس لئے عالم اسلام کو اس شخص سے کتنا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔یہ اعتراض بھی اول سے آخر تک جھوٹ ہے ہم اگر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کی تعریف کریں تو غیر ہماری باتیں نہیں مانیں گے ہم تو ایک ایک لفظ پر وجد کرتے ہیں اور ہماری روح میں نئے ولولے پیدا ہوتے ہیں اور نئی زندگیاں عطا ہوتی ہیں لہذا ہم ان کے علماء سے ہی پوچھتے ہیں یعنی ان علماء سے جو کسی زمانہ میں تقوی کا اعلیٰ معیار رکھتے تھے ، ان کے مصنفین سے پوچھتے ہیں،