خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 266
خطبات طاہر جلدم 266 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء گندگیاں اور ساری برائیاں نعوذ باللہ من ذالک امت مسلمہ میں جمع ہوگئی ہیں تو اس کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ فداہ نـفـســی و امـی وابــی و جانی ومالی) کی طرف رجوع کرنا چاہئے کیونکہ آپ قیامت تک امت کے رہنما، امت کے بادشاہ اور امت کے سر براہ ہیں۔ہمارا سب کچھ آپ کے قدموں میں فدا ہو۔خدا تعالیٰ نے امت مسلمہ کے قیامت تک کے حالات آنحضرت علی پر روشن فرما دیئے ہیں۔آپ نے امت مسلمہ کو خطرات سے متنبہ فرما دیا۔پس آپس میں بحثوں کی بجائے یا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے جھگڑنے صلى الله کی بجائے آنحضور ﷺ کی طرف رجوع کرنا چاہئے کہ اے ہمارے پیارے آقا ! آپ ہمیں بتائیں کہ ان فسادات کا کون ذمہ دار ہے۔کس نے امت مسلمہ میں زہرنی گس گھول رکھی ہے۔کس نے ظلم اور فساد کو پھیلا رکھا ہے جس کی وجہ سے امت محمدیہ کا جوڑ جوڑ دکھ رہا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ: و آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہ حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے جن میں ایسی مطابقت ہوگی جیسے ایک پاؤں کے جوتے کی دوسرے پاؤں کے جوتے سے ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کا مرتکب ہوا تو میری امت میں سے بھی کوئی ایسا بد بخت نکل آئے گا۔بنی اسرائیل بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی لیکن ایک فرقے کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔صحابہ نے پوچھا یہ ناجی فرقہ کون سا ہے تو حضور ہ نے فرمایا وہ فرقہ جو میری اور میرے صحابہ کی سنت پر عمل پیرا صل الله ہوگا۔(جامع ترمذی کتاب الایمان باب افتراق هذه الامة)