خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 267

خطبات طاہر جلدم 267 خطبه جمعه ۲۲ مارچ ۱۹۸۵ء یہ تو ایک عمومی فساد ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے کہ نعوذ بالله من ذالک۔امت مسلمہ کسی زمانہ میں کسی حد تک یہود کے مشابہ ہو جائے گی۔یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے جو ایک نہ ایک دن ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ایک اور حدیث بھی ہے جس سے اس مضمون پر مزید روشنی پڑتی ہے چنانچہ:۔”حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔یعنی عمل ختم ہو جائے گا۔اس زمانہ کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین ہوں گے۔علماء هم شر من تحت ادیم السماء۔(ان کے علماء کی اب نشاندہی ہوگئی کہ ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین ہوں گے ) ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے یعنی تمام خرابیوں کا وہی سر چشمہ ہوں گے۔( مشکوۃ المصابيح كتاب العلم الفصل الثالث رواہ بیہقی فی شعب الایمان ) یعنی تمام خرابیوں کی جڑ مولوی ہوں گے اور وہی ہر قسم کے فساد کا سر چشمہ ہوں گے فرمایا آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے اور میری امت میں ، میری طرف منسوب ہو رہے ہوں گے لیکن فرمایا علماء ہم ہوں گے یہ ان لوگوں کے علماء، میرے ساتھ ان کا کوئی روحانی تعلق نہیں ہوگا۔پس جتنے فتنے امت میں اٹھتے اور پھیلتے دیکھو گے یہ تمام علماء سے پھوٹتے نظر آئیں گے اور پھر واپس ان میں لوٹ جایا کریں گے۔مولوی ان حدیثوں کو کیوں نہیں پڑھتے ؟ تمہارا نام نہاد قرطاس ابیض کچھ اور کہہ رہا ہے جبکہ محد مصطفی ﷺ کا فرمان کچھ اور کہہ رہا ہے۔آنحضرت مے کے ارشاد کے مقابلہ میں تمہارے قرطاس ابیض کی تو حیثیت ہی کچھ نہیں۔یہ تو جہنم کا کاغذ قرار دیئے جانے کے لائق ہے۔کیونکہ یہ وہ کاغذ ہے جو حضرت رسول اکرم ﷺ کے فرمودات کا انکار کر رہا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی مخالفت اور مغائرت میں جو کاغذ تیار ہوتا ہے اس کی دو کوڑی کی