خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 265
خطبات طاہر جلدم 265 خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۸۵ء میں موجود ہیں۔( بحوالہ الفضل ۱۸ / فروری ۱۹۶۲ء) اور خود پاکستانی نمائندے جو مختلف وقتوں میں وہاں دورہ کرتے رہے ہیں ان میں ایک کی زبانی سنئے کہ جماعت احمدیہ کیا ہے اور کس طرح اس مسئلہ سے نمٹا جا چکا ہے۔پاکستان ٹائمنر لاہور میں ایک مضمون شائع ہوا جسے مشرق وسطی کے نمائندہ خصوصی فرید الیس جعفری نے لکھا تھا۔جعفری صاحب حکومت پاکستان کی طرف سے بھجوائے جانے والے اس کشمیر ڈیلی گیشن کا ذکر کرتے ہیں جو افریقہ کے دورہ پر گیا تھا۔جعفری صاحب خود بھی اس وفد میں شامل تھے۔انہوں نے یہ نوٹ انگریزی میں لکھا ہے میں اس کا اردو میں ترجمہ پڑھ کر سنادیتا ہوں : احمدی مبلغین حیرت انگیز طور پر بہت مقبول ہیں یہاں تک کہ صدر نکرومہ کے نزدیک بھی وہ ہر دل عزیز ہیں۔مجھے بتایا گیا کہ وہ حقیقی معنوں میں انسانی خدمت کر رہے ہیں کیونکہ وہ غانا کے نو جوانوں کو مذہبی اور دنیوی تعلیم دیتے ہیں اور کسی قسم کی تلخی یا نفرت لوگوں کے درمیان پیدا نہیں کرتے ( تم تو کہتے ہو تلخی پیدا کرنے جاتے ہیں نفرت پیدا کرنے جاتے ہیں لیکن تمہارے یہ اپنے نمائندے جو وفد کا حصہ تھے وہ کہہ رہے ہیں کہ احمدی کسی قسم کی تلخی اور نفرت پیدا کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ ) وہ درحقیقت لوگوں کے درمیان اتحاد کے لئے کام کر رہے ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ احمدی مبلغین کا لوگوں سے رابطہ عیسائی مبلغین سے بھی بہتر ہے۔انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے اور پسند کیا جاتا ہے۔(پاکستان ٹائمنر لاہور ۱۴ را گست ۱۹۶۴ صفحه ۱۲-۱۴) اس قسم کے اور بھی بہت سے حوالے ہیں لیکن اس مضمون کا ایک اور حصہ بیان کرنا ضروری ہے اس لئے اس کو میں سر دست ختم کرتا ہوں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جماعت احمد یہ فساد پیدا نہیں کر رہی تو آخر دنیا میں ملک ملک میں فساد کیوں پیدا ہوتا ہے۔دنیا میں جگہ جگہ فساد برپا ہے۔مسلمان آپس میں پھٹے ہوئے ہیں ، ان کی حالت زار ہوگئی ہے۔احمدیت کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ آخر یہ لوگ آپس میں کیوں لڑتے ہیں جس کی وجہ سے مولوی مودودی صاحب کی نظر میں تو دنیا جہان کی ساری