خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 241
خطبات طاہر جلدم 241 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء دن جب لا اله الا اللہ گواہی دینے آئے گا تو پھر تم کیا جواب دو گے۔حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے لئے بخشش طلب کریں تو پھر یہی فرمایا کہ قیامت کے دن جب لا اله الا اللہ آئے گا تو اس وقت تو کیا جواب دے گا؟ حضرت اسامہ کہتے ہیں آپ اس کے علاوہ اور کچھ نہ فرماتے تھے کہ جب قیامت کے دن لا إِلهَ إِلَّا اللہ آئے گا اس وقت تو کیا کرے گا؟ پس یہ وہ حالات ہیں جو اس وقت پاکستان میں رونما ہورہے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلام کے نام پر مسلط کی جانے والی ایک آمرانہ حکومت اسلام کی بنیادوں پر نہایت ہی خوفناک حملے کر رہی ہے اور عالم اسلام غفلت میں سو یا پڑا ہے۔یہ دور سائل جن کا میں نے ذکر کیا ہے، اس وقت لکھے گئے تھے جب کہ فلسطین کو خطرہ تھا اور فلسطین کے نتیجہ میں مکہ اور مدینہ کو بھی خطرہ لاحق تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس وقت عالم اسلام کو بڑے واشگاف الفاظ میں بیدار کرتے ہوئے فرمایا: وو سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے، سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کا ہے۔دشمن باوجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے۔کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا“۔(الكفر ملة واحدة “انوارالعلوم جلد ۱۹) لیکن آج جب کلمہ پر یہ نا پاک حملہ کیا گیا ہے تو میں عالم اسلام کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ آج نہ فلسطین کا سوال ہے نہ یروشلم کا سوال ہے اور نہ مکہ مکرمہ کا سوال ہے، آج اس خدائے واحد دیگانہ کی عزت اور جلال کا سوال ہے جس کے نام سے ان مٹی کے شہروں نے عظمت پائی تھی ، جس کے عظیم نام سے اینٹ پتھر کے گھروندوں کو تقدس نصیب ہوا تھا آج اس کی وحدانیت پر حملہ کیا جا رہا ہے۔آج مکہ اور مدینہ کا سوال نہیں آج تو ہمارے آقا و مولا شاہ مکی و مدنی کی عزت وحرمت کا سوال ہے۔آج سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے سینوں میں کوئی غیرت باقی نہیں رہی ، کیا یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کے ہاتھ کلمہ مثانے کی طرف اٹھ رہے ہیں ان پر لرزہ طاری نہیں ہو جاتا ؟ کیا ان کے دل پر