خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد۴ زخم نہیں لگتے ؟ 242 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء ستم بالائے ستم یہ کہ جب کوئی مسلمان اس کام کے لئے نہیں ملتا تو پاکستان کی اس آمرانہ حکومت میں اسلام کے دشمن عیسائیوں کو اس کام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور جب کوئی شریف شہری نہیں ملتا تو حوالات یا جیل خانوں سے مجرم پکڑ کر لائے جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے پاک کلمہ طیبہ مٹوایا جاتا ہے جس میں یہ اقرار ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفی ہے اس کے بندے اور رسول ہیں۔پس یہ نا پاک تحریک جو آج صدر ضیاء الحق کی کوکھ سے جنم لے رہی ہے وہ اس دنیا میں بھی اس کے ذمہ دار ہیں اور قیامت کے دن بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے۔پھر نہ تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت بچا سکے گی اور نہ کوئی مذہبی طاقت ان کو بچا سکے گی کیونکہ آج انہوں نے خدا کی عزت و جلال پر حملہ کیا ہے۔آج محمد مصطفی ﷺ کے پاک نام کے تقدس پر حملہ کیا ہے۔احمدی تیار ہیں وہ کلمہ کی حفاظت میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ اے عالم اسلام ! تم کیوں اس سعادت سے محروم بیٹھے ہو۔کیا تم میں اسلام کی ہمدردی ، اس کی غیرت اور کلمہ توحید کی محبت کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہی؟ پس میں تمہیں اس وحدت کی طرف بلاتا ہوں جس میں سارا عالم اسلام مشترک ہے۔عالم اسلام کی ایک ہی تو جان ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں اور کوئی شک نہیں۔شیعہ بھی کلمہ توحید سے اسی طرح وابستہ ہے جیسے سنی وابستہ ہے، احمدی بھی اسی طرح وابستہ ہے جس طرح وہابی اور دیگر فرقوں والے وابستہ ہیں۔کلمہ اسلام کی روح ہے لیکن آج اسلام کی اس روح پر حملہ کیا جارہا ہے۔اس لئے میں تمہیں غارحرا کے نام پر بلاتا ہوں جس سے ایک دفعہ صوت حق اس شان سے نکلی تھی کہ اس نے سارے عالم پر لرزہ طاری کر دیا تھا، میں تمہیں سیدنا بلال حبشی کے نام پر بلاتا ہوں کہ آؤ تم بھی اس غلام سے سبق سیکھو جس نے کلمہ کی حفاظت کے لئے اپنے سارے آرام تج ڈالے تھے اور ایسے ایسے دکھ برداشت کئے کہ آج ان کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس اے مسلمانو! اگر تم آؤ اور اس نیک کام میں احمدیوں کے ساتھ شامل ہو جاؤ تو ، میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مٹا نہیں سکے گی تم زمین