خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 240

خطبات طاہر جلدم 240 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات : ۱۵) کہ ان کے دلوں میں ایمان نے جھانک کر بھی نہیں دیکھا ، ایمان ان میں داخل ہی نہیں ہوا ایسے لوگوں میں سے کسی ایک کو بھی آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہارا منہ کا کلمہ اور ہے اور دل کا اور۔بلکہ اس کے برعکس ایسے واقعات بکثرت ملتے ہیں کہ ان کے تصور سے انسان حیران رہ جاتا ہے کہ نبی کس عظمت، کس شان ، کس وسیع حوصلہ اور کس وسیع قلب کا مالک تھا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔تاریخ اسلام میں ایک یہ واقعہ بھی ملتا ہے کہ اُسامہ بن زید نے ایک مقابلہ میں ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جو مسلمانوں پر بار بار حملے کرتا تھا۔جب اُسامہ بن زیدا سے مارنے لگے تو اس نے کلمہ پڑھ لیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔وہ خود بتاتے ہیں(مسلم کتاب الایمان باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا اله الا اللہ کی یہ حدیث ہے) کہ جب آنحضرت علیہ سے میں نے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا اس نے لا اله الا اللہ کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا ! اُسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اس نے تو ہتھیار کے خوف سے ایسا کیا تھا۔آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا جو تجھے علم ہو گیا تھا کہ اس نے کیا کہا اور کیا نہیں ؟ آنحضرت یہ فقرہ مسلسل کہتے چلے گئے اور کہتے چلے گئے اور کہتے چلے گئے کہ کیا تو نے دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا، کیا تو نے دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا۔ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں۔” کیوں نہ تو نے دل پھاڑ کر دیکھ لیا، کیوں نہ تو نے دل پھاڑ کر دیکھ لیا کہ واقعی اس کے دل میں کلمہ تھا یا نہیں“۔پس محمد مصطفی عملے نہ خود اس بات کے دعویدار تھے کہ دلوں میں جھانک کر یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ واقعی دل میں کلمہ ہے یا نہیں اور نہ اپنے غلاموں کو اس بات کی اجازت دی لیکن اس کے برعکس آج کے ملاں یہ دعویٰ کر بیٹھے ہیں کہ وہ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ بھی ہیں اور خدا تعالیٰ کے نبی اور آپ کے صحابہ سے بھی بڑھ کر مقام رکھتے ہیں اور دلوں کا حال جاننے لگ گئے ہیں اور اس پر کسی مسلمان کو غیرت نہیں آرہی کہ یہ کیا حرکتیں ہورہی ہیں۔اس حدیث کی ایک اور روایت بھی ہے جس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں اس میں یہ ذکر ملتا ہے کہ جب حضرت اسامہ بن زید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کلمہ تو اس نے تلوار کے ڈر سے پڑھا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اس نے لا الہ الا اللہ پڑھا اور پھر بھی تم نے قتل کر دیا! پھر فرمایا کہ قیامت کے