خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 186

خطبات طاہر جلدم 186 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء اخبار تھا ( اب بند ہو چکا ہے ) ۲۵ ستمبر ۱۹۴۷ء کے شمارہ میں لکھتا ہے: قادیان کے نوجوان ملٹری کے جبر و تشدد کے باوجود خوفزدہ نہیں۔وہ صرف اس بات کے خواہش مند ہیں کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔وہ خوب جانتے ہیں کہ اب وہ آہستہ آہستہ موت کے گھیرے میں آتے جاتے ہیں اور نہرو کی حکومت جو کہتی تھی کہ کسی مسلمان کو مشرقی پنجاب سے نکلنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا وہ قادیان کے مسلمانوں کو وہاں سے زبر دستی نکلوانے اور انہیں تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔“ ( آج یہ کہا جارہا ہے کہ احمدی ہندوستان کے ایجنٹ ہیں ) محکمہ حفاظت قادیان“ کے ماتحت کام کرنے والے نو جوان بعض اوقات چوبیں چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی ادا کرتے اور رات دن پہرہ دیتے ہیں۔66 اس مرحلہ پر حضور نے فرمایا: میں خود بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں شامل تھا اور مجھے یاد ہے کہ بعض دفعہ اڑتالیس گھنٹے نیند نہیں آسکتی تھی کیونکہ حالات ہی ایسے تھے علاوہ ازیں خدام تھوڑے تھے اور کام بہت زیادہ تھا اور بعض دفعہ اگر چند لمحے بھی نیند کے لئے مل جاتے تو یوں لگتا تھا کہ ہم گناہ کر رہے ہیں اور یہ احساس ہوتا کہ ہم سوئے کیوں یعنی یہ اس وقت کے احمدی نوجوانوں کے احساسات تھے اور پھر صرف قادیان میں ہی نہیں بلکہ اس کے اردگرد جتنے بھی مسلمان دیہات تھے انہیں بچانے اور ان کی خاطر لڑنے کے لئے قادیان سے مجاہد جایا کرتے تھے یہ اس زمانہ کا ذکر ہے۔چنانچہ اخبار لکھتا ہے: ر بعض اوقات چوبیس چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی ادا کرتے اور رات دن پہرہ دیتے ہیں۔گونیند اور بے آرامی کی وجہ سے ان کی صحت کمزور ہو چکی ہے مگر وہ موت کے ڈر سے بھاگنے کی بجائے موت سے مقابلہ کرنے پر آمادہ ہیں۔وہاں کوئی ملٹری مسلمان نہیں ہے۔ہند و ملٹری اور سکھ پولیس انہیں ڈراتی دھمکاتی ہے۔ہندو کیپٹن بھرا ہوا پستول ہاتھ میں پکڑے دہشت پھیلانے کے لئے ادھر ادھر پھرتا رہتا ہے۔