خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 187

خطبات طاہر جلدم 187 پھر یہی اخبار ۲ را کتوبر ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں مزیدلکھتا ہے: خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء لمبی چوڑی باتیں لکھنے کا وقت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔( یعنی اس اخبار میں کسی غیر احمدی مسلمان کا خط چھپا ہے جو ان دنوں قادیان میں پناہ لئے ہوئے تھا وہ لکھتا ہے کہ ) اس وقت ہم کم و بیش پچاس ہزارافراد قادیان میں پناہ لئے بیٹھے ہیں ہمیں احمدیوں کی طرف سے زندہ رہنے کے لیے کھانامل رہا ہے۔بعض کو مکان بھی مل چکے ہیں۔مگر اس قصبہ میں اتنی گنجائش کہاں ، ہزاروں آسمان کی چھت کے نیچے زمینی فرش پر پڑے ہیں جنہیں دھوپ بھی کھانا پڑتی ہے اور بارش میں بھی بھیگنا پڑتا ہے“۔(احسان لا ہور۲ اکتوبر ۱۹۴۷ء) علاوہ ازیں حکومت پاکستان کی طرف سے ایک کتاب” کاروان سخت جان“ کے نام سے شائع ہوئی اس میں تقسیم ملک کی تاریخ کا ذکر ہے۔حکومت پاکستان کے محکمہ دفاع کی طرف سے شائع شده یه کتاب قادیان کا ذکر کرتے ہوئے بھتی ہے: یہ مقام علاوہ اپنی صنعتی اور تجارتی شہرت کے جماعت احمدیہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔اس کے گرد ونواح میں تمام تر سکھوں کی آبادی ہے۔چنانچہ فسادات کے ایام میں بیس بیس میل دور کے مسلمان بھی قادیان شریف میں پناہ لینے کے لئے آگئے۔کل تک تو ” قادیان شریف تھا مگر آج تم ربوہ کو بھی دنیا کا نا پاک ترین شہر بنا رہے ہو، نعوذ بالله من ذالک اور کہتے ہو کہ جس طرح یہودیت کا اسرائیل ہے اسی طرح ربوہ بھی مرزائیل ہے نعوذ بالله من ذالک۔اس وقت تو تمہاری زبانوں سے حق جاری ہوا تھا کہ قادیان نہ کہو یہ تو قادیان شریف ہے۔یہاں خدا کے پیارے بستے ہیں۔خدا کے پیاروں نے یہ بستی آباد کی ہے اور اسلام کے فدائی اس بستی میں آباد ہیں۔جب تک یہ یادیں اس بستی سے وابستہ رہیں گی شرفاء اسے ہمیشہ قادیان شریف کے نام سے ہی یاد کرتے رہیں گے۔اس وقت کی حکومت پاکستان کی شرافت کی بھی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے حق کا اظہار کرتے ہوئے ان احراری مولویوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔یہ تعداد بڑھتے بڑھتے پچھتر ہزار نفوس تک پہنچ گئی وو