خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 185

خطبات طاہر جلدم 185 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء احمدیوں کے لئے مسلمان ممالک مہلک ثابت ہوتے ہیں اس لئے وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی مسلمان ملک قائم رہ جائے۔کجا یہ کہ وہ کسی مسلمان ملک کے بنانے میں ساتھ دیں۔چنانچہ اس انتہائی اہم دور میں جماعت احمد یہ کیا کر رہی تھی اور وہ جماعتیں جو آج پاکستان پر مسلط کی جارہی ہیں ان کا کردار کیا تھا۔اس سلسلہ میں میں چند اقتباس غیر احمدی اخباروں سے نکال کر پیش کر رہا ہوں تا کہ آج تاریخ کا جو حلیہ بگاڑا جا رہا ہے مسلمانان پاکستان اور مسلمانان عالم دیکھیں تو سہی کہ اصل ظالم کون تھا اور مسلمانوں کے ساتھ سچی ہمدردی رکھنے والا ، پیار کرنے والا ان کی خاطر جان و مال قربان کرنے والا کون تھا۔سید رئیس احمد جعفری اپنی کتاب ”حیات محمد علی جناح مطبوع ۱۹۷۴ ء زیر عنوان اصحاب قادیان اور پاکستان“ لکھتے ہیں:۔” اب ایک اور دوسرے بڑے فرقہ اصحاب قادیان کا مسلک اور رویہ پاکستان کے بارے میں پیش کیا جاتا ہے اصحاب قادیان کی دونوں جماعتیں مسلم لیگ کی مرکزیت، پاکستان کی افادیت اور مسٹر جناح کی سیاسی قیادت کی معترف اور مداح ہیں“۔(صفحہ: ۴۵۱) اس زمانہ میں مسلمانوں کو اس جدو جہد کے دوران جو غیر معمولی مصائب کا سامنا کرنا پڑا اس کی تاریخ تو بہت دردناک ہے۔مشرقی پنجاب کے علاقے میں مسلمانوں کے خون سے اس کثرت کے ساتھ ہولی کھیلی گئی ہے کہ اس ساری تاریخ کا احاطہ کرنا تو ممکن ہی نہیں اور نہ ہی کوئی دل ان دردناک داستانوں سے دوبارہ گزرنے کو گوارا کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جب عملی جہاد کا وقت آیا تو اس وقت مسلمان فرقوں میں سے احرار اور جماعت اسلامی کا کردار کیا تھا اور جماعت احمدیہ کا کردار کیا تھا۔وہ وقت ایسا نہیں تھا جو صرف تبلیغی جہاد کا ہو۔وہ وقت ایسا تھا جب کہ بدنی جہاد کا وقت تھا اور تلوار کے جہاد کا وقت بھی آچکا تھا۔مسلمان عورتوں کی عزت و حرمت کے ساتھ ظلم کی ایک ہولی کھیلی جارہی تھی اور بچوں کو اچھال کر نیزوں میں پر دیا جارہا تھا۔الغرض لئے ہوئے قافلوں اور ان کے ساتھ مظالم کے اتنے درد ناک مناظر ہیں کہ زبان کو یارا نہیں کہ ان کا تفصیل سے ذکر کر سکے۔بہر حال سب مسلمانوں کو بالعموم اس تاریخ سے واقفیت ہے۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب عملی جہاد کا وقت آیا تو کون تھا جو مسلمانوں کی خاطر جہاد کی صف اول میں لڑ رہا تھا۔اخبار احسان“ جو ایک احراری