خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 184

خطبات طاہر جلدم 184 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء کشمیر کی موجودہ حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے اور اس غرض کے لئے انہوں نے کشمیر کے گاؤں گاؤں میں پرو پیگنڈا کیا۔۔۔۔۔۔۔انہیں روپیہ بھیجا ، ان کے وکیل بھیجے ، شورش پیدا کرنے والے واعظ بھیجے۔شملہ میں اعلیٰ افسروں کے ساتھ ساز باز کرتا رہا۔پاکستان کے سربراہوں سے میں یہ پوچھتا ہوں کہ تم جس جماعت کو آج مسلمانوں کے خلاف ساز باز کر نے والے قرار دے رہے ہو اس کے متعلق کچھ خدا کا خوف کرو، اس جماعت پر غیر تو یہ الزام لگاتے ہیں اور ہمیشہ لگاتے رہے ہیں کہ یہ جماعت مسلمانوں کے حق اور خیر خواہی میں ساز باز کرنے والی جماعت ہے اور قرآنی الفاظ میں اگر یہ جماعت اذن ہے تو ا ذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ (التوبه (1) یعنی تمہاری بھلائی اور خیر خواہی کے کان رکھتی ہے نہ کہ تمہاری بدی کے کان۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا ذکر کرتے ہوئے اخبار ”ملاپ‘۳۰ ستمبر ۱۹۳۱ء کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ : کشمیر میں قادیانی شرارت کی آگ لگائی۔واعظ گاؤں گاؤں گھومنے لگے۔چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ چھپوائے گئے ، اردو میں بھی اور کشمیری زبان میں بھی اور انہیں ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر مفت تقسیم کیا گیا۔مزید برآں روپیہ بھی بانٹا گیا“۔(صفحہ:۵) برصغیر کی تاریخ میں سب سے اہم دور جو مسلمانوں کی تقدیر بنانے والا دور کہلاسکتا ہے، جس میں بقا کی جدو جہد اور بقا کی جنگ بڑی شدت کے ساتھ لڑی جارہی تھی وہ قیام پاکستان سے قبل کی تاریخ کا دور ہے۔اُس وقت مسلمان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔اُس وقت مسلمانوں کو ایک ایسی پناہ گاہ چاہئے تھی جہاں وہ مخالفانہ طاقتوں کے استبداد سے محفوظ رہ سکیں، جہاں نہ ان کے دین کوکوئی خطرہ ہو، نہ اُن کی سیاست کو کوئی خطرہ ہو، نہ ان کی معیشت کو کوئی خطرہ ہو۔چنانچہ اس پناہ گاہ کی تلاش میں مختلف وقتوں میں مختلف مسلمان اہل فکر نے کچھ تصورات باندھے، کچھ خواہیں دیکھیں، کچھ نقشہ تعمیر کئے اور رفتہ رفتہ پاکستان کا نقشہ یوں ابھرنے لگا کہ گویا وہ ساری ملت اسلامیہ کی آواز تھی۔اس انتہائی اہم دور میں جماعت احمدیہ کا کردار کیا تھا۔جن کے متعلق آج یہ کہا جارہا ہے کہ