خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 178
خطبات طاہر جلدم 178 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۸۵ء انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہورہے ہیں یہ آپ کے آزاد اخبارات کی کل کی باتیں ہیں، ان شرفاء کی جن کو انصاف کا کچھ پاس تھا جو تاریخ کو سخ کرنے کے قائل نہیں تھے جو حق بات کو حق کہنے کی جرات رکھا کرتے تھے وہ یہ کہہ رہے تھے۔اخبار مذکور مزید لکھتا ہے: جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہو رہے ہیں صرف ایک احمدی جماعت ہے جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جمعیت سے مرعوب نہیں ہے اور خاص اسلامی کام سر انجام دے رہی ہے یہ تو مسلمان اخبار لکھ رہے تھے۔ہندو اخبارات کے نزدیک بھی اس دور میں سب سے زیادہ شدید جوابی حملہ کرنے والے احمدی ہی تھے۔یعنی جن کے ساتھ مقابلہ تھا اب ان کی آواز سنئے اور وہ ہندو اس سے استفادہ کر کے وہی کام کر رہے تھے جو آج احرار کر رہے ہیں۔اس زمانہ میں ہندو مسلمانوں کو احمدی مسلمانوں سے لڑانے کے لئے بھر پور کوشش کر رہے تھے اور ان کو بار بار یہ بتارہے تھے کہ احمدی غیر مسلم ہیں۔یعنی احرار کا کام اس وقت آریہ سماجیوں نے سنبھالا ہوا تھا اور وہ مسلمانوں کو کہہ رہے تھے۔بے وقوفو! احمدی تو غیر مسلم ہیں ان کے پیچھے کیوں لگتے ہو۔ان کے پیچھے لگ کر اپنے رسول کی غیرت کیوں دکھا رہے ہو، یہ جانیں قربان کرتے ہیں تو انہیں مٹنے دو تمہارا(نعوذ بالله من ذالک) اس رسول سے کیا تعلق جس کی خاطر احمدی سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔چنانچہ اس اخبار کے الفاظ سنیں : ”مرزائیوں یا احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں اس قدر اختلاف رائے ہے کہ مرزائی مسلمانوں کو مسلمان مرزائیوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ابھی کل کا ذکر ہے کہ ایک مسلمان نے مولوی کفایت اللہ صدر جمعیت العلماء دہلی سے مرزائیوں کے متعلق فتویٰ طلب کیا تھا۔آپ نے جوفتوی دیا وہ جمعیت علماء کے آرگن ”الجمعیۃ دہلی کے کالموں میں شائع ہوا۔اس میں مولانا کفایت اللہ نے مرزائیوں کو کافر قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ زیادہ میل جول بڑھانے کو