خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 177
خطبات طاہر جلدم 177 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء تھے ، جن کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا گیا اور جو نہ صرف خود پاک بلکہ دوسروں کو پاک بنانے والے تھے جوز کی ہی نہیں بلکہ مزکی بھی تھے، جن کی برکت اور فیض سے انبیاء پاک بنائے گئے ان کے متعلق ایسے نا پاک حملے تھے کہ قلم میں یارا نہیں کہ ان حملوں کا ذکر بھی کر سکے۔ایسے موقع پر ان مخالفانہ حملوں کے خلاف جو تحریک اٹھی اور مسلمانوں کو اس سلسلہ میں جو عظیم الشان جد و جہد کرنا پڑی۔سوال یہ ہے کہ اس کا سہرا کانگر یہی علماء کے سر تھا یا مودودی علماء کے سر تھا یا جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ تو فیق عطا فرمائی کہ اس نے عظیم جدوجہد میں نہ صرف غیر معمولی طور پر حصہ لیا بلکہ اس کی سیادت کی توفیق پائی۔مضمون چونکہ لمبا ہونے کا خطرہ تھا اس لئے میں نے مختصر اہندوستان کے ایک مسلمان اخبار کا ایک اقتباس آپ کے سامنے پیش کرنے کے لئے چنا ہے اور اسی طرح میں آپ کے سامنے دو ہندو اخبارات کے اقتباسات بھی رکھتا ہوں۔ان سے یہ بات خوب کھل جائے گی کہ عالم اسلام کے ان درد ناک لمحات میں سب سے زیادہ درد کس جماعت کو تھا اور کس کے رہنما نے غیر معمولی شدت کے ساتھ جوابی حملے کئے۔اخبار مشرق“ گورکھپور اپنی اشاعت ۲۳ رستمبر ۱۹۲۷ء میں لکھتا ہے۔” جناب امام جماعت احمدیہ کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہیں“ دور حاضر کے قدرناشناس اگر ان کو بھول جائیں تو یہ ان کی مرضی ہے لیکن اخبار مشرق“ گورکھپور لکھتا ہے کہ مسلمانوں پر تو بہر حال احسان ہے جو دائرہ مسلمانی سے نکلنا چاہتا ہے اس کی مرضی ہے کہ وہ نکل جائے لیکن قیامت تک ان احسانات کا ذکر مسلمانوں پر احسانات کے طور پر چلتا رہے گا۔اخبار مذکورلکھتا ہے: ” آپ ہی کی تحریک سے ورتمان پر مقدمہ چلایا گیا۔آپ ہی کی جماعت نے ”رنگیلا رسول“ کے معاملہ کو آگے بڑھایا، سرفروشی کی اور جیل خانے جانے سے خوف نہیں کھایا۔آپ ہی کے پمفلٹ نے جناب گورنر صاحب بہادر کو انصاف اور عدل کی طرف مائل کیا۔آپ کا پمفلٹ ضبط کر لیا گیا مگر اس کے اثرات کو زائل نہیں ہونے دیا اور لکھ دیا کہ اس پوسٹر کی ضبطی محض اس لئے ہے کہ اشتعال نہ بڑھے اور اس کا تدارک نہایت ہی عادلانہ فیصلے سے کر دیا اور اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں سب کسی نہ کسی وجہ سے