خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 165
خطبات طاہر جلدم 165 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء کے خلاف اٹھنے والی آواز کے جواب میں جماعت ہر چیز قربان کرنے پر تیار ہوگئی۔چنانچہ ایک بنگالی دوست نے حضور کی خدمت میں خط لکھا ان کا نام قاری نعیم الدین صاحب تھا۔انہوں نے ایک بوڑھے باپ کی حیثیت سے حضور کی خدمت میں عرض کیا: گو میرے بیٹے مولوی ظل الرحمن صاحب اور مطیع الرحمن صاحب متعلم بی اے کلاس نے مجھ سے کہا نہیں مگر میں نے اندازہ کیا ہے کہ حضور نے جو کل راجپوتانے میں جا کر تبلیغ کرنے کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک کی ہے اور جن حالات میں وہاں رہنے کی شرائط پیش کی ہیں شاید ان کے دل میں ہو کہ اگر وہ حضور کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کریں گے تو مجھے جو ان کا بوڑھا باپ ہوں تکلیف ہوگی لیکن میں حضور کے سامنے خدا تعالیٰ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ مجھے ان کے جانے اور تکلیف اٹھانے میں ذرا بھی غم یار نج نہیں۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر یہ دونوں خدا کی راہ میں کام کرتے کرتے مارے بھی جائیں تو اس پر ایک بھی آنسو نہیں گراؤں گا بلکہ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا۔پھر یہی دونوں نہیں میرا تیسرا بیٹا محبوب الرحمن بھی ہے اگر خدمت اسلام کرتا ہوا مارا جائے اور اگر میرے دس بیٹے ہوں اور وہ بھی مارے جائیں تو بھی میں کوئی غم نہیں کروں گا۔شاید یہ خیال ہو کہ بیٹوں کی تکلیف پر خوش ہونا کوئی بات نہیں بعض لوگوں کو ایسی بیماری ہوتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی موت پر ہنستے رہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر میں بھی خدا کی راہ میں مارا جاؤں تو میرے لئے عین خوشی کا باعث ہوگا“۔(الفضل ۱۵ / مارچ ۱۹۲۳ء) یہ تھے غدار اسلام کے اور وطن کے؟ جو کل بھی اسی طرح کے غدار تھے اور آج بھی اسی طرح کے غدار ہیں ان کی سرشت نہیں بدلی۔نہ تمہاری تلواروں سے ان کی سرشت بدل سکتی ہے، نہ تمہارے نیزوں سے بدل سکتی ہے ، نہ ان تیز دھار زبانوں سے بدل سکتی ہے جو دن رات احمدیت کے دل پر چر کے لگا رہی ہیں۔جس قسم کی غداریاں ہم کل کر رہے تھے آج بھی ویسی ہی کرنے والے ہیں اور تم جس قسم کی خدمت اسلام کل کرنے والے تھے آج بھی ویسی ہی کر رہے ہو دونوں