خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 164

خطبات طاہر جلدم 164 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء جماعت احمدیہ نے اپنے امام کی آواز پر جو والہانہ لبیک کہا وہ ایسا حیرت انگیز ہے کہ قربانی کرنے والی مذہبی جماعتوں اور قوموں میں ہمیشہ کے لئے ایک یادگار رہے گا اور جماعت احمدیہ کی تاریخ کا وہ ایک ایسا باب ہے جسے سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔چنانچہ بوڑھے کیا اور جوان کیا ،مرد کیا اور عورتیں کیا ، بچے کیا اور جوان کیا، امیر کیا اور غریب کیا ، ہر ایک نے ایسی شاندار قربانی اس راہ میں پیش کی ہے کہ ان واقعات کے متعلق سینکڑوں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔تاہم وقت کی طوالت کے خوف سے میں صرف ایک آدھ نمونہ پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں: ایک احمدی خاتون نے لکھا کہ ”حضور میں صرف قرآن مجید جانتی ہوں اور تھوڑ اسا اردو۔میں نے اپنے بیٹے سے سُنا ہے کہ مسلمان مرتد ہورہے ہیں اور حضور نے وہاں جانے کا حکم دے دیا ہے۔مجھے بھی اگر حکم ہو تو فوراً تیار ہو جاؤں ، بالکل دیر نہ کروں گی۔خدا کی قسم اٹھا کر کہتی ہوں کہ ہر تکلیف اٹھانے کو تیار ہوں۔“ چھوٹی چھوٹی بچیوں نے اور کچھ نہیں تھا تو اپنی چنیاں اتار کر پیش کر دیں۔غریب عورتوں نے جن کا ایک بکری پر گزارہ تھاوہ بکری پیش کر دی۔وہ بوڑھی عورتیں جو جماعت احمدیہ کے وظیفوں پر پلتی تھیں اور اُن وظیفوں سے بچا کر دو روپے رکھے ہوئے تھے (اس زمانہ میں دو روپے بڑی چیز ہوا کرتے تھے ) لمبے عرصہ میں دو روپے بچائے ہوئے وہ آئیں اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے سامنے پیش کرتے ہوئے ان دوروپوں کے متعلق یہ کہا : کہ دیکھیں یہ سر کا جو دوپٹہ ہے، یہ بھی جماعت کا ہے ، یہ میرے کپڑے بھی جماعت کے وظیفے سے بنے ہوئے ہیں، میری جوتی بھی جماعت کی دی ہوئی ہے کچھ بھی میرا نہیں میں کیا پیش کرتی۔حضور ! صرف دو روپے میں جو جماعت کے وظیفے سے ہی میں نے اپنے لئے اپنی کسی ضرورت کے لئے جمع کئے ہوئے تھے یہ میں پیش کرتی ہوں کہ کسی طرح اس شدھی کی ظالمانہ تحریک کا رخ پلٹ جائے۔“ (کارزار شدھی صفحہ : ۴۶) یہ تھا جماعت احمدیہ کی قربانی کا وہ جذبہ جس کا جماعت نے مظاہرہ کیا۔شدھی کی تحریک