خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 166
خطبات طاہر جلد۴ کے رویے میں کوئی فرق نہیں پڑا۔166 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مذہبی لڑائی کیا تھی اور اس لڑائی میں کون تھا جس سے ہندو جاتی کو خطرہ لاحق ہوا اور یہ کون تھا جس نے ہندؤوں کی طرف سے چلائی جانے والی تحریک شدھی کا رخ پلٹ دیا۔اس کے متعلق ان لوگوں کی زبان سے سنئے جن کو چوٹیں پڑ رہی تھیں۔ہندؤوں کا مشہور اخبار تیجے، دہلی جو کل تک بڑے بڑے اعلان کر رہا تھا کہ کس طرح ہند و تحریک شدھی کے ذریعہ پچاس ساٹھ لاکھ کی بجائے ایک کروڑ مسلمانوں کو ہندو بنالیں گے وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوا: وید الہامی ہے اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہے اور مکمل گیان ہے۔قادیانی کہتے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبین ہیں۔اس کد و کاوش کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی عیسائی یا مسلمان اب مذہب کی خاطر آریہ سماج میں داخل نہیں ہوتا“۔(اخبار تیج دیلی ۲۵/ جولائی ۱۹۲۷ء) دیکھئے ! اس اخبار کو میدان جہاد میں اسلام کی طرف سے لڑنے والا قادیانیوں کے سوا اور کوئی نظر نہیں آیا۔اس وقت کہاں تھے یہ احراری ملاں جب ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف کارزار شدھی گرم تھا اس وقت اس میدان میں صرف احمدی ہی تھے جنہوں نے اس تحریک کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔یہی اخبار تیج پھر لکھتا ہے: ، ” میرے خیال میں تمام دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ٹھوس، مؤثر اور مسلسل کام کرنے والی جماعت احمد یہ جماعت ہے اور میں بیچ کہتا ہوں کہ ہم سب سے زیادہ اس کی طرف سے غافل ہیں اور آج تک ہم نے اس خوفناک جماعت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔(اخبار تیج دہلی ۲۵ / جولائی ۱۹۲۷ء ) اب دیکھیں ہندو تو تھر تھر کانپ رہا تھا اس زمانہ میں بھی جب کہ وہ کروڑہا کروڑ کی اکثریت رکھتا تھا اور جماعت احمدیہ کی تعداد آج کے مقابلہ میں بہت تھوڑی تھی لیکن بایں ہمہ نہایت بے شرمی کے ساتھ احراری مولویوں اور پاکستان کی موجودہ حکومت کی طرف سے جماعت کو کبھی ہندوؤں کا ایجنٹ کہ دیا جاتا ہے، کبھی عیسائیوں کا ایجنٹ کہہ دیتے ہیں اور کبھی یہودیوں کا آلہ کار کہنے لگ جاتے