خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 163

خطبات طاہر جلدم 163 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء کم نہیں۔اگر ہند وسماج ان کو اپنے اندر جذب کرنے کا کام جاری رکھے تو مجھے تعجب نہ ہوگا کہ ان کی تعداد ایک کروڑ تک ثابت ہو جائے“۔یہ تھا وہ خوفناک حملہ جو اسلام پر کیا گیا تھا۔اُس وقت رگ حمیت کس کی پھڑ کی تھی ، وہ کون تھا جو اپنا سب کچھ راہ محمد میں قربان کرتا ہوا میدان جہاد میں کو د گیا تھا۔یہ احرار اور ان کے لگے بندھے لوگ تھے یا جماعت احمدیہ تھی۔آئیے تاریخ کے آئینہ میں دیکھیں کہ برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کے اس نازک مرحلہ پر اسلام کی نمائندگی کا حق کس نے ادا کیا۔اس وقت جبکہ ہندؤوں نے ایک علاقے میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کا بازار گرم کر رکھا تھا قادیان سے اس کے خلاف آواز بلند ہوئی۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی اللہ آپ سے راضی ہو ) نے ۹؍ مارچ ۱۹۲۳ءکو بید اعلان فرمایا: اس وقت ہمیں فوری طور پر ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اس علاقے میں کام کریں۔اس ڈیڑھ سو میں سے ہر ایک کو فی الحال تین مہینے کے لئے زندگی وقف کرنی ہوگی۔ہم ان کو ایک پیسہ بھی خرچ کے لئے نہ دیں گے۔اپنا اور اپنے اہل وعیال کا خرچ ان کو خود برداشت کرنا ہوگا۔جولوگ ملا زمتوں پر ہیں وہ اپنی رخصتوں کا انتظام خود کریں اور جو ملازم نہیں اپنے کاروبار کرتے ہیں ، وہاں سے فراغت حاصل کریں اور ہمیں درخواست میں بتائیں کہ وہ چار سہ ماہیوں میں کس سہ ماہی میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔یعنی کم سے کم ایک سال کا پروگرام فوری طور پر شروع کیا گیا تو پہلی سہ ماہی کے لئے ڈیڑھ سو آدمی چاہئے تھے۔پھر اگلی سہ ماہی کے لئے اور ڈیڑھ سو چاہئے تھے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو ) فرماتے ہیں: اس سکیم کے ماتحت کام کرنے والوں میں سے ہر ایک کو اپنا کام آپ کرنا ہوگا۔اگر کھانا آپ پکانا پڑے تو پکائیں گے اور اگر جنگل میں سونا پڑے تو سوئیں گے۔جو اس محنت اور مشقت کی برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں وہ آئیں ان کو اپنی عزت اپنے خیالات قربان کرنے پڑیں گئے۔(الفضل ۱۵/ مارچ ۱۹۲۳ء)