خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 156

خطبات طاہر جلدم 156 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء نعرہ لگائیں تو یہ لوگ ہمیں ہزار ہا طعنے دینے لگتے ہیں اور ہماری مساجد اور درودیوار پر لکھا ہوا اور ہمارے سینوں پر سجا ہوا کلمہ طیبہ ان کو برا لگتا ہے۔اس میں خدا کی تو حید کا جو اعلان ہوتا ہے۔اس میں حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ کی صداقت کا جو اعلان ہوتا ہے۔بہر حال گاندھی جی مہاراج کی مسلمانوں کے جلسہ میں آنے پر مسلمانوں کی پذیرائی کے بارہ میں ذکر کرتے ہوئے مولا نا عبدالمجید سالک رقم طراز ہیں: آخر گاندھی جی اٹھے اور جلسہ میں شامل ہونے کے لئے چلے۔رضا کاروں نے ہجوم میں سے راستہ نکالا۔گاندھی جی جلسہ گاہ میں پہنچے تو جوش وخروش کی انتہا نہ تھی۔پہلے دوسرے لیڈروں نے تقریریں کیں اس کے بعد گاندھی جی نے مجمع کو خطاب کیا اور مولانا ظفر علی خان کی گرفتاری پر احتجاج کرتے ہوئے وہ فقرہ کہا جو یار لوگوں کی محفلوں میں مدت تک سرمایہ قہقہہ بنا رہا۔( یہ فقرہ میں چھوڑ دیتا ہوں ) چند ہفتوں کے بعد گاندھی جی پھر تشریف لائے اس مرتبہ ان کے ساتھ رہنماؤں کی پوری جماعت تھی۔۔۔سکھ مولانا ابوالکلام کے ہاتھوں کو بوسے دیتے تھے۔ہندو مولانا کی چرنوں کی دھول آنکھوں سے لگاتے تھے اور مسلمان گاندھی جی کی پذیرائی یوں کرتے تھے گویا کسی خدا رسیدہ ولی نے لاہور کو اپنے قدوم سے مشرف فرمایا ہے۔66 (سرگزشت صفحه: ۱۲۹) ان باتوں نے مسلمانوں کے دل میں جو جذبات پیدا کر دیئے تھے وہ بہت شدید تھے اسی لئے اس جاہلانہ تحریک کے خلاف احتجاج کرنے کی سزا میں جماعت احمد یہ کو سارے ہندوستان میں شدید سزائیں مل رہی تھیں۔تا ہم مسلمانوں کے جذبات کا جو عالم تھا اس کا نقشہ مولانا سالک صاحب نے ان الفاظ میں کھینچا : عامتہ المسلمین میں یہ جذ بہ عام ہو رہا تھا کہ اب ہندوستان سے ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہیں اس لئے آزاد علاقے اور افغانستان میں چلے جاؤ اور وہاں رہ کر اس جنگ کی تیاری کرو جو تمہیں انگریزوں پر فتح دلا دے اور