خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 155

خطبات طاہر جلدم 155 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء کس قدر عقل سے دُور باتیں ہیں۔لیکن جذبات کی دنیا نرالی ہے۔اس وقت جلسہ کا یہ عالم تھا کہ بعض لوگ چنیں مار مار کر رو رہے تھے اور خلافت کا نفرنس مجلس عزا بن گئی تھی (سرگزشت صفحه: ۱۰۸) گاندھی جی ان دنوں صرف ہندوؤں کے ہی نہیں مسلمانوں کے بھی مہاتما بن چکے تھے اور شہدائے اسلام کے معاملات غور و خوض کے لئے ان کے سامنے پیش ہوا کرتے تھے۔چنانچہ مولانا عبدالمجید سالک صاحب اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں : گاندھی جی جلسہ شروع ہونے سے پہلے دفتر زمیندار میں تشریف لائے وہ بعض خلافتی رہنماؤں سے گفتگو میں مصروف تھے اور میں چل کوٹ گورمے اور حبیب اللہ خان مہاجر شہید کے متعلق کا غذات لئے گاندھی جی کے سر پر کھڑا تھا۔بڑی مشکل سے جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے سارا معاملہ انہیں سمجھایا۔(سرگزشت صفحه: ۱۲۸) یعنی مسلمان شہیدوں کے متعلق کا غذات گاندھی جی کے دربار میں پیش ہورہے ہیں ! مولانا سالک لکھتے ہیں : اتنے میں ہزار ہا حاضرین جلسہ بھی تکلیف انتظار سے مضطرب ہو کر دفتر زمیندار کے سامنے سڑک پر جمع ہو گئے۔(سرگزشت صفحہ ۱۲۸) زمیندار اخبار کا دفتر اس وقت احرار کا مرکز اور جماعت احمدیہ کی مخالفت کا گڑھ تھا۔مولانا سالک لکھتے ہیں کہ لوگ دفتر زمیندار کے سامنے سڑک پر آگئے۔اور فلک شگاف نعرے لگانے لگے مہاتما گاندھی جی کی جے، ہندوستان کی جے ! ہندو مسلمان کی جے ! بندے ماترم ! اللہ اکبر ! ست سری اکال (سرگزشت صفحه : ۱۲۴) ان لوگوں کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے آج احمدیوں کی مساجد اور درودیوار پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا دیکھ کر درد سے ان کی چیخیں نکلتی ہیں اور غیرت سے ان کی جان پھٹ رہی ہے۔اس لئے کہ یہ لوگ ہمیشہ سے ہی مختلف مزاج رکھتے ہیں۔احمدی اپنے امام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جے کا