خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 157

خطبات طاہر جلدم 157 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء ہندوستان کو آزاد کرا دے۔امیر امان اللہ خان نے ایک تقریر میں کہہ دیا کہ ہندوستان سے جو بھائی ہجرت کر کے آئیں گے افغانستان حتی الوسع ان سے برادرانہ سلوک کرے گا (سرگزشت صفحہ : ۱۱۵) ہاں وہ کونسی آواز تھی جو اس تحریک کے خلاف اٹھی اور جس نے مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی اور بڑی وضاحت کے ساتھ بار بار صورت حال کا تجزیہ کر کے بتایا کہ عدم تعاون اور ترک موالات کی تحریک ہر پہلو سے غلط ہے اور پھر مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ شریعت اسلامیہ کا نام اس میں استعمال نہ کرو۔اس طرح یہ اسلام سے بھی گستاخی ہے اور رسول اسلام سے بھی شدید گستاخی ہے۔اگر سیاسی غلطی نہ بھی سہی تب بھی اس گستاخی کے نتیجہ میں تم ضرور سزا پاؤ گے۔اس لئے تم ہمارے خلاف جو چاہو مخالفت کے حربے استعمال کر لو میں تمہیں لازم بتا کر اور سچ بات کہہ کر چھوڑوں گا کیونکہ مجھے مسلمانوں سے سچی ہمدردی ہے۔کیونکہ عدم تعاون اور ترک موالات کی تحریک میں بار بار کالفظ استعمال ہو رہا تھا اور مسلمانوں کو یہ بتایا جارہا تھا کہ یہ شرعی فتوی ہے اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( اللہ آپ سے راضی ہو) نے اس موقع پر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "مسٹر گاندھی کے قول کو قرآن کریم کیوں قرار دیا جاتا ہے۔شریعت اس کا نام کہاں رکھا جاتا ہے۔اگر یہ بات ہے تو لوگوں سے یہ کہو کہ چونکہ مسٹر گاندھی اس طرح فرماتے ہیں اس لئے اسی طرح تم کو عمل کرنا چاہئے۔یہ کیوں کہتے ہو کہ شریعت اسلام کا فتویٰ ہے۔پھر فرمایا: اگر ترک موالات کے حامی اسے شریعت کا فرض مقرر کرتے ہیں تو پھر اس طرح عمل کریں جس طرح کہ شریعت نے کہا اور اگر اسے گاندھی کا ارشاد قرار دیتے ہیں تو عوام کو قرآن کے نام سے دھوکا نہ دیں اور اسلام کا تمسخرنہ اُڑائیں۔(ترک موالات اور احکام اسلام صفحه : ۵۸-۵۹) پھر فرمایا: ” کیا تم کو یہ نظر نہیں آتا کہ تم ایک صحیح راستے کو ترک کر کے کہاں کہاں