خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد۴ خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء کا جہاں تک تعلق ہے خدا تعالیٰ نے آپکو تو ایک بڑا وسیع مشن بھی عطا فرما دیا لیکن پھر بھی جو دوسری ضروریات ہیں وہ پوری نہیں ہو سکتیں۔اس لئے یہاں بھی ہمیں جگہ جگہ نئی جگہیں خریدنا پڑیں گی اور اس کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔ایک خوشخبری یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے گلاسگو میں ہمیں ایک بہت عظیم الشان عمارت خریدنے کی توفیق مل گئی ہے جو وہاں کی جماعت کا ایک حصہ سمجھتا ہے کہ بہت دیر تک ہماری ضروریات پوری ہوتی رہیں گی۔لیکن میں سمجھتا ہوں وہ یہ بدظنی کر رہے ہیں اپنے رب پر۔اگر بہت دیر تک ان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی تو پھر وہ بڑھ نہیں رہے۔اس لئے میری تو دعا ہے کہ کل ضروریات ان کی پوری نہ ہو سکیں ، اتنی جلدی وہ پھیلیں اور نشو ونما پائیں اور اس تیزی سے آگے قدم بڑھا ئیں کہ ہم دیکھتے رہ جائیں کہ یہ عمارت چھوٹی ہوگئی اور جماعت اس سے بڑی ہوگئی۔اس لئے اب گلاسگو کی جماعت کو میری خاص نصیحت یہ ہے کہ خدا کی اس نعمت کا شکر اس رنگ میں ادا کریں کہ اس عمارت کو بھرنے کی کوشش کریں جلد سے جلد اور خدا کی رحمت پر توقع رکھیں کہ جب وہ بڑھیں گے تو خدا اور عمارتیں بھی عطا کر دے گا۔خدا تعالیٰ نے اس لحاظ سے جماعت کو کبھی بھی محروم نہیں رکھا۔جرمنی کا سفر میرا خصوصیت کے ساتھ اس لئے تھا کہ وہاں دوسرا ایور و پین مشن خریدنے کیلئے جائزہ لیا جائے۔لیکن جب ہم ہالینڈ میں اترے وہاں کی مسجد کو دیکھ کر ہمیں تعجب ہوا کہ ہالینڈ کی مسجد بھی چھوٹی ہوگئی ہے۔بہت سے لوگ جو پہلے تعلق نہیں رکھتے تھے وہ کثرت کے ساتھ تعلق رکھنے لگے نئے نئے احمدی ان میں داخل ہوئے اور اللہ کے فضل سے وہ جو پہلے بڑی کھلی جگہ دکھائی دیا کرتی تھی بالکل چھوٹی ہو کے رہ گئی ہے۔چنانچہ وہاں بھی خدا تعالیٰ نے توفیق دی اگر چہ دو، تین دن کا قیام تھا لیکن جماعت نے بھی بڑی بھاگ دوڑ کی نئی جگہیں تلاش کیں اور اس جگہ کو بھی نئی وسعت دینے کیلئے آرکیٹکٹ بُلا کر ان کے ساتھ معاملات طے ہوئے۔تو امید کرتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جلد خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہالینڈ میں بھی دو طرح ہمارے مشن وسعت پذیر ہوں گے ایک موجودہ عمارت کی توسیع کی جائے گی اور دوسرے ایک نیا مشن وہاں قائم کرنا ہے انشاء اللہ۔جب جرمنی پہنچے تو پتہ چلا کہ وہاں تو ہیمبرگ میں بھی ضرورت ہے ، وہاں کولن ایک جگہ ہے وہاں بھی ضرورت ہے اور میونخ میں بھی ضرورت ہے۔وہاں تو جماعتیں شور مچا رہی تھیں کہ ہماری