خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 10

خطبات طاہر جلدم 10 خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء ضرورتیں پوری کرو، آپ ایک مشن کی بات کر رہے ہیں یہاں تو جگہ جگہ خدا کے فضل نئے مشنوں کے تقاضے کر رہے ہیں۔چنانچہ یہی فیصلہ کرنا پڑا کہ ایک تو بڑا مرکز قائم کیا جائے فرینکفرٹ کے قریب اور وہاں خدا کے فضل سے ایک بہت اچھی با موقع جگہ پسند کر لی گئی ہے اور Negotiations کے لئے کہہ دیا ہے۔بہر حال جو قیمت بھی اس کی طے ہو گی ہم انشاء اللہ دیں گے۔اور ہیمبرگ مشن کو بھی ہدایت کر دی گئی ہے۔دو تین ان کی جو تجاویز تھیں وہ سامنے بھی آئیں لیکن وہ بھی پوری نہیں تھیں۔ان سے میں نے کہا تھا کہ بڑی جگہ بنا ئیں تو ان کے جو حوصلہ کی چھلانگ تھی اسی وجہ سے کہ شاید اگلی پانچ سال کی یا دس سال کی ضرورتیں ہماری پوری ہو جائیں گی اُنہوں نے چھوٹی جگہ تجویز کر دی۔ان سے میں نے کہا ہے کہ آپ کتنے سال پھل کھاتے رہے ہیں گذشتہ لوگوں کی محنت کا ، اب ان کا شکر یہ ادا کرنے کا تو یہ طریق ہے کہ آئندہ ارادہ یہ کریں کہ گویا آئندہ ہیں یا تھیں سال تک کی ضروریات کے لئے آپ نے کشادہ جگہ لینی ہے اور دعا یہ کریں کہ خدا کرے اگلے سال ہی ہمیں اور جگہ لینی پڑے۔یہ ڈھنگ ہیں جو قدرت نے ہمیں سکھائے ہیں اس طریق پر خدا تعالیٰ نے دنیا میں نشو ونما فرمائی ہے۔اور یہ جاری قوانین ہیں اللہ تعالیٰ کے جن کے نتیجے میں تمام کائنات ترقی پذیر ہے اس لئے خدا تعالیٰ کی اس جاری سنت کو دیکھ کر ان سے جب ہم زندہ رہنے کے اسلوب سیکھتے ہیں تو پھر یہی نتائج سامنے آتے ہیں جو میں آپ کے سامنے سُنا رہا ہوں۔سوئٹزرلینڈ گئے تو وہاں بھی جگہ بہت چھوٹی نظر آئی۔اگر چہ وہاں بہت زیادہ مہنگائی ہے لیکن پھر بھی ہمیں جو فوری ضروریات ہماری ہیں وہ تو بہر حال پوری کرنی ہیں۔یعنی سوئٹزر لینڈ میں انگلستان کے مقابل پر دس گنا سے بھی زیادہ قیمتیں ہیں جائیدادوں کی۔بہر حال ایک جگہ تو زمین کے متعلق انکا مطالبہ تھا کہ ہمیں جلد لے کر دی جائے۔اُن سے تو میں نے کہا ہے کہ آپ لوگ چونکہ تبلیغ میں ست ہیں اس لئے ابھی آپ کا حق نہیں ہے ، آپ پہلے اپنا حق قائم کریں ، ہر احمدی میں ایک جذ بہ اور جوش پیدا ہو پھر انشاء اللہ تعالیٰ چاہے جہاں سے مرضی روپیہ لانا پڑے ہم آپ کی ضرورت پوری کر دیں گے۔لیکن ابھی ان کو ایک سال کی میں نے مہلت دی ہے اس لئے فی الحال سوئٹزر لینڈ میں سوائے پرانے مشن کی کچھ توسیع کے اور کوئی پروگرام نہیں ہے۔جب فرانس آئے تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی جماعت میں ایک حیرت انگیز تبدیلی ہے۔ہم تو