خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 8

خطبات طاہر جلدم خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۵ء شکل کی مرہون منت ہیں اور دراصل اسی کی بدلی ہوئی مختلف صورتیں ہیں۔تو جب خدا تعالیٰ نے اپنے نقشہ کی بنیاد Acceleration پر رکھی ہے اور ہمیں متوجہ فرمایا ہے کہ تم قانونِ قدرت پر غور کرو اور اس سے نصیحت پکڑو اور میری سنت کے راز معلوم کرو اور میرے طریق سیکھو تو روحانی دنیا میں بھی نئی عظیم الشان تخلیقات کے لئے نئے نئے کارخانے جاری کرنے کیلئے لازم ہے کہ ہم خدا کی اس جاری کرده سنت پر غور کریں اور اُسی کو اپنائیں۔پس آئندہ سال کے لئے اگر یہاں انگلستان میں مثلاً ایک سال میں ساٹھ ہوں اور جرمنی میں ایک سو دس یا ایک سو میں اور ہو جائیں تو یہ تو Stagnation کی علامت ہوگی ہے ایک مقام پر کھڑے ہو جانیوالی بات ہے۔اگر دس داعی الی اللہ یہاں پیدا ہوئے تھے تو اگلے سال کم سے کم ہیں ہونے چاہئیں یا اس سے بھی زیادہ اور جرمنی میں اگر پچاس پیدا ہوئے تھے تو اگلے سال سو یا اس سے بھی زیادہ ہونے چاہئیں۔اسی طرح باقی ملکوں کو بھی میں یہی پیغام دیتا ہوں کہ نئے سال میں یہ عہد کریں اپنے رب سے کہ اے خدا تو نے محض اپنے فضل سے ہمیں جو تیز رفتاری بخشی ہے اس تیز رفتاری کو Acceleration میں تبدیل فرما دے۔ہمارے ہر کام میں غیر معمولی سرعت ہی نہ ہو بلکہ ہمیں بڑھتی رہنے والی سرعت عطا ہو۔دنیا ہر سال ہمیں ایک نئے دور میں داخل ہوتا دیکھے، تیری راہ میں قدم بڑھانے کی مزید توانائی ہمیں نصیب ہو اور تیری طرف حرکت کیلئے نئے نئے پر ہمیں عطا ہوتے رہیں۔ان دعاؤں کے ساتھ ہمیں نئے سال کا آغاز کرنا چاہئے۔جہاں تک اس تبلیغ کے نتائج کا تعلق ہے اور روحانی طور پر جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ عطا فر مایا ہے اور اپنی رضا بخشی ہے ہمیں اسکا تعلق ہے اس کے نتیجہ میں ظاہری لحاظ سے کچھ مشکلات بھی دکھائی دیتی ہیں اور وہ مشکلات بھی دراصل اللہ کا فضل ہیں مشکلات یہ ہیں کہ وہ مساجد جو پہلے ہمارے لئے کافی ہوا کرتی تھیں اب کافی نہیں رہیں۔کچھ نئے آنے والے آئے ہیں کچھ پرانے جو غافل تھے وہ بڑی تیزی کے ساتھ جماعت کی طرف دوبارہ پلٹے ہیں، باہر جانے کی بجائے ان کا رخ اندر کی طرف ہو گیا ہے۔چنانچہ وہ مساجد جو گذشتہ دوروں میں مجھے کافی محسوس ہوتی تھیں اب تو بالکل اتنی چھوٹی دکھائی دی ہیں کہ حیرت ہے کہ ان سے ہمارے کام کیسے چل سکیں گے۔چنانچہ میں نے تو دو یوروپین مشنرز کی تحریک کی تھی لیکن اب معلوم ہو رہا ہے کہ دو تو نہیں یہ تو لمبا سلسلہ چلنے والا ہے۔چنانچہ انگلستان