خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 7

خطبات طاہر جلدم 7 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۸۵ء آپ میرے اولین مخاطب ہیں کہ انگلستان میں بھی یہ پاک تبدیلی بڑے نمایاں طور پر سامنے آرہی ہے اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی۔میرا یہ ارادہ تھا خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق کے مطابق کہ کوشش کروں کہ ہر جہت سے گذشتہ سالوں کے مقابل پر اس سال دس گنا زیادہ تبلیغ کی رفتار ہو جائے تو جہاں تک یورپ کا تعلق ہے وہاں تو اللہ تعالیٰ نے یہ فضل پوری طرح حساب سے بھی بڑھ کر عطا فرما دیا۔انگلستان میں بھی گذشتہ سال کی نسبت دس گنا سے زیادہ تبلیغ میں اضافہ معلوم ہوا اور جرمنی میں بھی گذشتہ سال کے مقابل پر دس گنا زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور دیگر ملکوں کی تمام تفاصیل تو میرے سامنے نہیں ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ میں ابھی یورپ کے سفر سے بھی آیا ہوں حیرت انگیز طور پر نو جوانوں میں تبلیغ کی لگن اور جوش ہے اور طبیعتیں مائل ہو رہی ہیں اس طرف اس لئے میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ یہ جس کام کی بنیاد پڑ گئی ہے کہ ہر احمدی تبلیغ کرے اس کے نتائج اب انشاء اللہ تعالیٰ اس طرح نہیں آگے بڑھیں گے کہ ایک سے دو ہو جائیں اور دو سے تین اور تین سے چار بلکہ جیسا کہ میری دلی تمنا ہے اور دعا ہے یہ آپس میں ضرب کھانے لگ جائیں گے انشاء اللہ۔دو سے چار اور چار سے آٹھ اور آٹھ سے سولہ اس رفتار سے ہمیں آگے بڑھنا ہے اور اس کے بغیر ہمارا چارہ نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ رفتار خواہ کتنی بھی تیز ہو رفتاروں کے ذریعہ دنیا میں انقلاب بر پا نہیں ہوا کرتے بلکہ ایکسلا ریشن (Acceleration) کے ذریعہ انقلاب ہوا کرتے ہیں۔ایکسلا ریشن (Acceleration) کہتے ہیں ترقی پذیر رفتار کو یعنی آج اگر دس میل کی رفتار سے آپ چل رہے ہیں تو کل دس میل کی رفتار سے نہیں بلکہ گذشتہ دس میل + اور دس میل یعنی ہیں میل کی رفتار سے آپ چل رہے ہوں اور اس سے اگلے سال میں میل کی رفتار سے نہیں چلیں بلکہ میں + دس میل اور تو اس تدریجی رفتار کو انگریزی میں Acceleration کہتے ہیں۔اور دنیا میں جتنا بھی کارخانہ قدرت چل رہا ہے اس کی بنیاد خدا تعالیٰ نے Acceleration پر رکھی ہے کیونکہ بنیادی طور پر آخری انرجی کی جوصورت ہے وہGravitation ہے یعنی زمین کی قوت جاذ بہ یا مادہ کی قوت جاذ بہ جس کو کششِ ثقل بھی کہا جاتا ہے۔اُس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ Acceleration پیدا کرتا ہے اور جتنی انرجیز (Energies) کی مختلف شکلیں ہیں خواہ وہ بجلی ہو یا مقناطیس یا کوئی اور شکل ہو وہ بالآخر اسی آخری۔