خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 127

خطبات طاہر جلد۴ 127 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء جہاد؟ کوئی عقل کی بات کرو، کوئی ہوش کے ناخن لو، کیا دعوے کر رہے ہو، دنیا کو کیا منہ دکھاؤ گے کہ یہ ہمارے دعوے ہیں، اس انگریز کے خلاف ہم جہاد کرنا چاہتے تھے جس نے سکھوں کے مظالم سے ہمیں رہائی دلائی۔لیکن ہوا یہ کہ انگریز نے ایک ایسے شخص کی زبان سے جہاد کے حرام ہونے کا اعلان کرا دیا جو ہمارا دشمن اور انگریز کا ایجنٹ تھا اس لئے ہم نے انگریز سے جہاد نہ کیا۔کیا ایسی نامعقول باتیں کوئی تسلیم کر سکتا ہے؟ اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کون سے جہاد کو حرام قرار دیا ہے۔جہاد کے تو مختلف پہلو ہیں مثلاً تلوار کا جہاد ہے ، وقت کی قربانی پیش کرنے کا جہاد ہے تبلیغ اسلام کا جہاد ہے وغیرہ یہ بڑا اوسیع مضمون ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کس جہاد کو حرام کہا؟ کیا اسلامی جہاد کے تصور کو حرام کہا یا لوگوں کے بگڑے ہوئے تصور کو حرام قرار دیا؟ تو جس نے کہا اس کی زبان سے سنو اور غور کرو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے کس چیز کو حرام کہہ رہا ہے اور کس چیز کو حلال بتا رہا ہے۔اس سے پہلے کہ میں آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس پڑھ کر سناؤں اس میں جس پادری کا ذکر ہے اس کا پس منظر بتا دیتا ہوں۔آپ کے زمانہ میں پادری ( خصوصاً وہ جو مسلمانوں سے مرتد ہوئے تھے ) اسلام پر شدید حملے کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اسلام تلوار کے جہاد کی تلقین کرتا ہے اور ادھر انگریزی حکومت کو متنبہ کر رہے تھے کہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دو، ان میں اٹھنے کی طاقت نہ رہنے دو۔یہ وہ دور تھا جب کہ عیسائی پادری بڑھ بڑھ کر انگریزوں کو مسلمانوں کے عقیدہ جہاد کی وجہ سے بھڑ کا نا چاہتے تھے۔گوانگریزوں کے غلبہ کے بعد مسلمان بیچاروں میں تو کوئی جوش آہی نہیں رہا تھا۔ان کی باتیں میں آپ کو سناؤں گا تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ وہ اس کے نتیجہ میں کیا سوچ رہے تھے اور کس طرح انگریزوں سے مخاطب ہور ہے تھے اور انہیں کیا درخواستیں دے رہے تھے۔لیکن یہ پادریوں کا یکطرفہ ظالمانہ حملہ تھا اور ان کی اسلام دشمنی کا ثبوت تھا۔وہ چاہتے تھے کہ اس بہانے سے مسلمانوں کو ہندوستان میں کچل دیا جائے اور ہندو طاقت کی سر پرستی کی جائے اور اسے ابھارا جائے جبکہ ہندوؤں کا بھی یہی طریق تھا کہ وہ بار بار انگریز حکام کو مخاطب کر کے توجہ دلاتے تھے کہ اصل خطرہ تمہیں مسلمانوں سے ہے اس لئے ان مرے مٹوں کو اور بھی بالکل مٹادو، برباد کر دو، اٹھنے کی طاقت کا خیال ہی ان کے دل سے نکال دو۔پادری عمادالدین