خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 128
خطبات طاہر جلدم 128 خطبه جمعه ۱۵ار فروری ۱۹۸۵ء سابق واعظ و خطیب جامع مسجد آگرہ جس کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے اس کے ایسے ہی الزامات کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس نکتہ چین نے جو جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر انگیختہ کرتا ہے سو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افتراء نہیں۔قرآن شریف صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کا حکم فرماتا ہے جو خدا کے بندوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کے دین میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور اس بات سے کہ وہ خدا کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور وہ ان لوگوں سے لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں سے اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو جبرا اپنے دین میں داخل کرتے ہیں اور دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مسلمان ہونے سے روکتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا غضب ہے۔اور مومنوں پر واجب ہے کہ ان سے لڑیں اگر وہ باز نہ آویں“۔نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۶۲۰ ترجمه از عربی عبارت ) یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دو تنسیخ جہاؤ“۔اب اور سنئے ! کس چیز کو حرام قرار دیا، کس چیز کے خلاف آپ نے جہاد کا علم بلند کیا۔سو واضح ہو کہ بعض جاہل علماء اور پادریوں کے غلط تصورات تھے جن کے خلاف آپ نے آواز بلند کی ہے۔ان علماء کے غلط تصورات کے نتیجہ میں اسلام کو تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچنا تھا کیونکہ ان میں لڑنے کی کوئی طاقت ہی نہیں تھی ہاں نقصان کے بہت سے اندیشے اور خطرات تھے جو ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " سبحان اللہ !وہ لوگ کیسے راست باز اور نبیوں کی روح اپنے اندر رکھتے تھے کہ جب خدا نے مکہ میں ان کو یہ حکم دیا کہ بدی کا مقابلہ مت کرو اگر چہ ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ۔پس وہ اس حکم کو پاکر شیر خوار بچوں کی طرح عاجز اور