خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 126

خطبات طاہر جلدم 126 خطبه جمعه ۱۵ر فروری ۱۹۸۵ء اس وقت مسلمانوں کے کس قسم کے حالات تھے، کیسی طاقت کا دور دورہ تھا جس سے انگریز خائف تھا۔مولوی مسعود عالم صاحب ندوی اس دور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: دسکھوں کے مظالم ان کے سامنے تھے۔مسلمان عورتوں کی عصمت و آبر ومحفوظ نہ رہی تھی۔ان کا خون حلال ہو چکا تھا۔گائے کی قربانی ممنوع تھی مسجدوں سے اصطبل کا کام لیا جارہا تھا۔غرض مظالم کا ایک بے پناہ سیلاب تھا۔“ اس وقت پنجاب میں سکھا شاہی کا دور تھا جو پانچ دریاؤں کی مسلم آبادی کو بہائے لئے جارہا تھا۔آنکھیں سب کچھ دیکھتی تھیں مگر قوائے عمل مفلوج ہو چکے تھے۔(ہندوستان کی پہلی تحریک صفحه: ۴۵،۳۷) سارا ہندوستان پس رہا تھا مگر قوائے عمل مفلوج ہو چکے تھے اور شمال سے جنوب تک کے مسلمانوں کو یہ توفیق نہیں تھی کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے خون کی حرمت کا اعلان کریں اور ان لوگوں کے خلاف جہاد کریں جنہوں نے اس کو حلال کر دیا تھا۔ان کے نزدیک گائے کا خون حرام تھا لیکن مسلمان کا خون حلال ہو چکا تھا ، ان کے نزدیک مسلمان عورتوں کی عصمت و آبرو کی کوئی بھی قدرو قیمت نہ تھی۔ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی آبرو کی حفاظت کے لئے تو کوئی بھی ہاتھ نہیں اٹھا۔ان کو اس دور سے کس نے نجات دی وہ انگریزی حکومت ہی تھی۔جب وہ آئی تب مسلمانوں کے لئے امن آیا۔کیا پھر ان مسلمانوں سے وہ انگریز خوف کھا رہے تھے جو دتی میں ایک حکومت بنا کر بیٹھے ہوئے تھے جن کی دتی بھی جشن منا رہی تھی ، تمام ہندو ریاستیں آزاد ہو چکی تھیں۔ہر طرف سے خونخوار بھیڑیوں کی طرح ان مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جار ہا تھا جن میں اپنی حفاظت کی بھی طاقت نہیں تھی اور جن سے صرف ایک کمپنی نے ہی حکومت چھین لی تھی کیا ان سے انگریزوں کو خوف تھا کہ وہ انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیں گے۔اور اس جہاد میں معقولیت کیا ہوتی ؟ ذرا غور تو کریں کہ انگریز آیا اور سکھوں کے مظالم سے نجات دی ، ہندو راجوں اور مرہٹوں کے ظلم و ستم اور استبداد سے مسلمانوں کو بچایا اور پھر اچانک مسلمان اٹھ کھڑے ہوتے کہ اچھا! اب تم نے ہمیں بچالیا ہے تو ہم تمہیں ٹھیک کرتے ہیں اور سزا دیتے ہیں اور تمہیں بتاتے ہیں کہ کیسے مظلوموں کو بچایا جاتا ہے۔یہ تھا تمہارا تو