خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 103

خطبات طاہر جلدم 103 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھے کو قبول کر لو اس ترکیب سے اس نے لیفر ائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک تمام پادریوں کو شکست دے دی۔(دیباچہ ترجمہ معانی القرآن از مولانا تھانوی ص۳۰) یہ ہے انگریزوں کا مفاد جو جماعت احمدیہ سے وابستہ تھا۔اگر یہی مفاد ہے تو پھر آپ لوگ بھی اس مفاد میں جماعت احمدیہ کی مدد کیوں نہیں کرتے کیونکہ اس سے انگریز کا نہیں اسلام کا مفاد وابستہ ہے۔اس سے عیسائیت کا نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے دین کا مفاد وابستہ ہے۔چنانچہ یہ بات جو آج کے مولوی کو سمجھ نہیں آرہی یہ تو کل کے ہندو کو بھی سمجھ آرہی تھی۔وہ اس معاملہ میں مولویوں سے زیادہ عقل مند تھا اور سمجھتا تھا کہ احمدیت کی حقیقت کیا ہے اور یہ کس مقصد کی خاطر قائم ہوئی ہے اگر چہ احمدیت کی مخالفت میں اس نے ہندو اخبار میں اداریہ لکھا ہے جس سے میں ایک اقتباس لے رہا ہوں اور اس میں اُس نے ہندوؤں کو احمدیوں کے خلاف متنبہ کرنے کی خاطر یہ اداریہ لکھا ہے اور بتایا ہے کہ جن کو تم معمولی سمجھ رہے ہو وہ تو بڑی بلا ہیں یہ تمہارے لئے مصیبت کا ایک پہاڑ بن جائیں گی لیکن ذہین آدمی سمجھتا ہے کہ احمدیت کی حقیقت کیا ہے اس لئے احمدیت کی گزشتہ تاریخ پر نظر ڈال کر اور اس کا جور د عمل عیسائی دُنیا میں ہوا ہے اس کو مد نظر رکھ کر لکھتا ہے: " آج سے تمیں چالیس سال پہلے پیچھے ہٹ جائے جبکہ یہ جماعت اپنی ابتدائی حالت میں تھی اور دیکھئے اس زمانہ میں ہندو اور مسلمان دونوں اس جماعت کو کس قدر حقیر اور بے حقیقت سمجھتے تھے۔۔۔۔مگر واقعات یہ کہہ رہے ہیں کہ ان پر ہنسی اڑانے والے خود بے عقل اور احمق تھے۔اس بارے میں عیسائی مشنریوں نے نہایت عقل مندی سے کام لیا۔احمدیوں نے ابھی یورپ اور امریکہ میں قدم رکھا ہی تھا کہ تمام پادری اُن کے مقابلے کے لئے تیار ہو گئے۔“ (اخبار تیج دہلی ۲۵ جولائی ۱۹۲۷ء) رہا عیسائی دنیا کا معاملہ تو دیکھنا یہ ہے کہ اس میں احمدیت کس طرح متعارف ہوئی اسلام کے خلاف ایک خوفناک تحریک کے طور پر جیسا کہ معاندین احمدیت پرو پیگنڈہ کرتے ہیں یا اس کے