خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 104

خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء 104 خطبات طاہر جلدم برعکس عیسائیت کے خلاف ایک خوفناک تحریک کے طور پر یہ کہانی بھی جدید اور قدیم عیسائی محققین ہی کی زبان سے سنئے۔متفرق حوالے اس وقت میرے سامنے ہیں جن کو میں نے تاریخی لحاظ سے مرتب نہیں کیا لیکن احباب کی دلچسپی کی خاطر اور یہ سمجھانے کے لئے کہ تحریک احمدیت کی اصل حقیقت کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں میں بعض عیسائی مفکرین کی زبان میں احمدیت کے بارہ میں اُن کے اس تاثر کو پیش کرتا ہوں جو انہوں نے احمدیت سے ٹکر لینے کے بعد قائم کیا۔اسلام کے دفاع میں احمدیت کی طرف سے دندان شکن کارروائی کو محسوس کرتے ہوئے مختلف عیسائی چرچوں کے ایک کمیشن نے 1969ء میں ایک رپورٹ شائع کی۔یہ کمیشن تحریک احمدیت کے بارہ میں غور کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا اس کمیشن کے ایک ممبر Bertil Weberg کہتے ہیں: وو عیسی ( علیہ السلام ) کے ابن اللہ ہونے کے سلسلہ میں جو اعتراضات احمدیت کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں اُن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ احمد یہ جماعت عیسائیت کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہے۔عیسائیت نے جو عالمگیر مذہب کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے احمد یہ جماعت سب سے زیادہ اس کے در پے ہے اور چاہتی ہے کہ اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت واپس لائی جائے یعنی وہ عظمت جو محمد (ع) کی وفات کے بعد سے لے کر ایک سوسال تک اسلام کو حاصل تھی جب کہ یہ مذہب بحرالکاہل کے اردگرد کے ملکوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا تھا اور یورپ میں بھی کافی دُور تک پہنچ گیا تھا۔دعویٰ تو بہت بڑا ہے لیکن مستقبل ہی بتا سکے گا کہ اس میں کامیابی ہوسکتی ہے یا نہیں۔احمد یہ جماعت نے اب تک جو تبلیغی کوششیں کی ہیں اُن سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے دعاوی کی پشت پر عمل کی طاقت موجود ہے یہ ہے با عمل اسلام“۔(Report on Christian Churches, Scandinavia 1969 Herbert Gotts Chalk)