خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 102

خطبات طاہر جلدم 102 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء طبعی وفات پا جانے کا اعلان کر کے آپ نے عیسائیت کی کمر توڑ دی یا نہیں اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو میں انہی علماء کا ایک حوالہ پڑھتا ہوں جو نہ صرف یہ کہ احمدی نہیں بلکہ احمدیوں کے شدید مخالف گروہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن یہ وہ زمانہ تھا جبکہ علماء میں حق کا کچھ پاس موجود تھا اور بعض حق بات کہنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ انہی علماء میں سے مولوی نور محمد صاحب نقش بندی چشتی ہیں جنہوں نے مولوی اشرف علی صاحب تھانوی کے ترجمہ معانی القرآن قرآن کریم کا ایک طویل دیباچہ لکھا ہے وہ اس دیباچہ کے صفحہ 30 پر رقم طراز ہیں: اسی زمانہ میں پادری لیفر ائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدہ کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا (دیکھئے یہ ہے انگریز کا مفاد! پتہ نہیں کتنے لاکھ روپیہ اُس زمانہ میں انہوں نے خرچ کیا اور بہت بڑا پہلوان تیار کر کے ہندوستان بھیجا اور اُس نے مسلمان علماء کے نزدیک وہ کام کر دکھائے کہ سارے ہندوستان میں تلاطم برپا کر دیا۔ناقل ) حضرت عیسی کے آسمان پر جسم خا کی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے (وہ بیچارے مولوی صاحب ہیں اس لئے مولوی کہہ رہے ہیں مگر اپنی طرف سے احتراماً کہہ رہے ہیں اس میں غصہ کی کوئی بات نہیں ہے۔اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام کچھ نہ کچھ ادب سے لینے والے لوگ بھی موجود تھے ہر قوم میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔حق پرست بھی ہوتے ہیں چنانچہ مولانا نورمحمد صاحب نقش بندی کا میں احترام کرتا ہوں وہ فرماتے ہیں ) مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں