خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1016
خطبات طاہر جلدم 1016 خطبه جمعه ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء مومن کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جب مخالفانہ کوشش شروع ہو تو صرف اس کوشش کو نا کام نہیں بنانا بلکہ ترقی کی رفتار کو پہلے سے کئی گنا تیز کر کے دکھانا ہے۔تا کہ ایسی کوشش کرنے والوں کی ہمتیں ٹوٹ جائیں۔ان کو کبھی و ہم بھی نہ آئے کہ الہی جماعتوں پر ہاتھ ڈال کر ہم کسی طرح کی بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔اس لئے نہ صرف ان عیسائیوں کی طاقت کو وہاں تو ڑنا ہے ، ان کوششوں کو ناکام بنانا ہے بلکہ ترقی کی رفتار کو پہلے سے زیادہ تیز کرنا ہے۔یہ وہ مقاصد ہیں جو میں وقف جدید کے لئے آئندہ چند سالوں کے لئے متعین کرتا ہوں۔اس ضمن میں ایک نائب ناظم وقف جدید کور بوہ کی بجائے ان علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔وہ مستقلاً اب وہیں بیٹھ کر وہیں اپنا اڈا جمائیں گے اور وہیں بیٹھ کے کام کریں گے اور ان کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مدر سے قائم کریں، چھوٹے چھوٹے شفا خانے قائم کریں اور دعا کے ساتھ جب وہ کوشش کریں گے تو عیسائیوں کے بڑے شفا خانے بھی انشاء اللہ تعالیٰ ان چھوٹے شفاخانوں کے مقابل پر نا کام ہو جائیں گے۔ایلو پیتھک کی توفیق نہیں تو ہومیو پیتھک علاج شروع کریں اور پہلے بھی اس علاقے میں اس علاج کا کافی تعارف ہے۔ہم نے جب شروع میں کام کیا تو شفا خانے تو کھول نہیں سکتے تھے لیکن معلمین کو ہومیو پیتھک سکھا کر اور کچھ نسخے رٹا کر جو روز مرہ میرے استعمال میں آچکے تھے ہم نے ان کو بھیج دیا کہ اسی سے علاج شروع کرو اور علاقے میں اچھی خاصی شہرت ہوگئی۔پھر بعض ذہین معلمین نے نئے نئے تجربوں سے اپنے نسخے بھی نئے ایجاد کئے اور بعض بیماریوں میں تو قادیانی ڈاکٹر سارے تھر کے علاقے میں مشہور تھے۔جب کوئی خاص بیماری ایسی ہوتی تھی تو وہ دور دور کے علاقے سے سوسو میل کے سفر کر کے بھی وہ قادیانی ڈاکٹر کی تلاش میں پہنچا کرتے تھے۔مثلاً ایک بیماری ہے جو باقی جگہ بھی پائی جاتی ہے لیکن وہاں خاص طور پہ پائی جاتی ہے۔ایک باریک سا کیڑا پاؤں میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ بڑھتا رہتا ہے سینکڑوں گز تک وہ بڑھ جاتا ہے اور جب اس کو کسی طرح اگر پکڑ کے نکالیں بھی تو وہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور بظاہر اس کا کوئی علاج نہیں۔ایلو پیتھک میں کوئی علاج ہوں گے لیکن اس علاقے تک تو بہر حال وہ علاج نہیں پہنچے تھے۔نہایت ہی خوفناک بیماری ہے جس سے بڑی تکلیف کے ساتھ مریض مرتا ہے۔