خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1017
خطبات طاہر جلد۴ 1017 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء اور ہمارے ایک نو مسلم ڈاکٹر نثار احمد مورانی نے اپنے طور پر ہی حالانکہ ہمیں تو اس بیماری کا پہلے خیال نہیں تھا سلیشیا ایک ہومیو پیتھک دوا ہے دینی شروع کر دی اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل دکھایا کہ سلیشیا کھانے سے وہ کیٹر ا سارے کا سارا اندر ہی پکھل جاتا تھا اور سارے علاقے میں شور پڑ گیا کہ ایک احمدی ڈاکٹر کے پاس علاج آگیا ہے۔چنانچہ دور دور سے لوگ آنے شروع ہو گئے۔تو غریبانہ علاج ہی سہی اب وہاں انشاء اللہ اس علاج کی سہولت کو مزید پھیلایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے برکتیں ڈالے گا۔غریبانہ علاج کی بحث نہیں ہے، بحث یہ ہے کہ شافی مطلق کس کے ساتھ ہے۔اگر وہ بڑے بڑے شفا خانوں کو چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں آجائے تو شفا بھی ان جھونپڑیوں کی طرف منتقل ہو جائے گی اور شفا خانوں کو چھوڑ دے گی۔اس لئے وقف جدید کوتو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ سہارا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس ذریعہ سے عیسائیوں کی کارروائی کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ سندھ میں جو زمیندار توفیق رکھتے ہیں ان کو یہ تحریک کرتا ہوں کہ وہ وقف عارضی میں زیادہ اس علاقے میں جانا شروع کریں اور شہروں کے لوگ بھی کراچی ، حیدر آباد وغیرہ خصوصاً سندھ کے علاقے کے جو کسی پہلو سے بھی کوئی فائدہ ان قوموں کو پہنچا سکتے ہوں مثلاً ڈاکٹر ہوں، وکیل ہوں تعلیم کے ماہرین ہوں کسی پہلو سے بھی وہ ایسے علاقوں میں کسی قسم کا فائدہ پہنچا سکتے ہوں ان کو بھی چاہئے کہ وہ اب وقف عارضی کریں اور زیادہ سے زیادہ وہاں جا کر ذاتی تعلق قائم کریں۔ایک زمانے میں امیر صاحب کراچی نے اس طرف توجہ دی تھی تو بعض واقفین ہر طبقہ زندگی کے وہاں پہنچنے شروع ہوئے اور وہاں سے جو چٹھیاں آتی تھیں ان سے معلوم ہوتا تھا کہ غیر معمولی فائدہ پہنچا ہے۔کوئی مثلاً فوجی ریٹائر ڈ ہیں وہ وہاں گئے اور وہاں پتہ لگا کہ بعض فوجی وہاں ظلم کر رہے ہیں، تو ایک پیشے سے تعلق رکھنے والوں کو آپس میں ایک دوسرے کی شرم ہوتی ہے، وہ ان سے ملے اور ان سے جا کے رابطہ قائم کیا، پتہ لگا کہ یہ بھی بے وجہ ہی غلط فہمیوں کے نتیجہ میں ان کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔تو ان کو سہولتیں پیدا ہوگئیں، اس علاقے میں اس کا بڑا رعب پڑا کہ اللہ کے فضل سے جماعت احمد یہ با اثر ہے اور ان کے بڑے بڑے افسر بھی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، منکسر مزاج ہیں۔ان کے ساتھ مل کر وہ انہی برتنوں میں کھاتے پیتے تھے، اس کا بھی بہت اثر پڑتا تھا۔پھر اور کئی قسم