خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1015
خطبات طاہر جلد۴ 1015 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء سارے کا سارا روپیہ ضائع ہو جائے ، ایک پیسہ بھی واپس نہ آئے لیکن اس ہند و پسماندہ علاقے میں آج تک وقف جدید کا ایک پیسہ بھی ضائع نہیں ہوا ، بڑی دیانت داری کے ساتھ یہ واپس کرتے رہے۔یہاں تک کہ ابھی پچھلے دو سال کی بات ہے باوجود اس کے کہ حکومت کی طرف سے اور علماء کی طرف سے ان لوگوں کی طرف شدید دباؤ تھا کہ تم احمدیت سے پھر کر اپنے مذہب میں واپس چلے جاؤ۔یعنی مشرک ہو جاؤ ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور اللہ کی توحید کے گن گانے چھوڑ دو اور بتوں کی پرستش شروع کر دو۔یہ ہمیں زیادہ قابل قبول ہے بہ نسبت اس کے کہ تم احمدی مسلمان کہلاؤ اور ہر قسم کی مدد ان کو دی جاتی تھی اس معاملے میں کہ اگر وہ احمدیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا چاہیں تو پوری طرح ان کو ہر قسم کی اعانت حاصل ہوگی۔ایسے زمانے میں بھی ان کو جور رقم بیج کے طور پر دی گئی وہ ساری کی ساری انہوں نے واپس کی۔تو یہ وہ قوم ہے جس میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اس پر تو کل کرتے ہوئے وقف جدید نے کام شروع کیا اور عیسائیوں کے پاؤں وہاں سے اکھیڑے، کسی پیسے کے زور پر نہیں بلکہ دلائل کے زور سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا علم کلام اتنا مضبوط ہے، اتنا قوی ہے کہ اس کے سامنے عیسائی کے پاؤں ٹھہر ہی نہیں سکتے۔بالکل تھوڑی تعلیم والے معلمین جو واقعات لکھا کرتے تھے حیرت ہوتی تھی کہ کس طرح خدا تعالیٰ ان کو جواب سمجھاتا ہے۔عیسائی پادریوں کی بڑی بڑی مجالس لگی ہوتی تھیں اور وہاں ایک معلم اٹھ کے سوال شروع کر دیتا تھا اور کچھ دیر کے بعد وہ اپنی صف لپیٹ کر بوریا بستر لپیٹ کر وہاں سے غائب ہو جایا کرتے تھے۔تو عام چر چا شروع ہو گیا کہ عیسائیوں کے یہ پاؤں نہیں جمنے دیتے اور واقعہ کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے عیسائی تبلیغ ختم ہو گئی لیکن اب کچھ عرصہ سے اس بدلے ہوئے ماحول سے فائدہ اٹھا کر یہ سمجھتے ہوئے کہ حکومت کی ساری طاقت اور علماء کی ساری طاقت احمدیوں کے مقابل پر عیسائیوں کے ساتھ ہوگی انہوں نے دوبارہ وہاں پر پر پرزے پھیلانے شروع کئے ہیں۔سکول جاری کرنے شروع کئے ہیں ، شفا خانے کھولے ہیں ، دوبارہ امداد دینی شروع کی ہے اور جہاں تک میں نے تخمینہ لگایا ہے کروڑ ہا روپیہ ان علاقوں میں خرچ کر کے ان کو عیسائی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس لئے جوابی کارروائی کے طور پر جماعت احمد یہ بھی کم سے کم اتنی مؤثر کارروائی کرے گی کہ وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوں لیکن یہ کم سے کم کارروائی ہے۔